مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 30
مکتوبات احمد ۳۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۱۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کارڈ پہنچا۔ خدا تعالیٰ آپ کو جلد تر شفا بخشے ۔ مجھ کو آپ کی بار بار علالت سے دل کو صدمہ پہنچتا ہے اور بمقتضائے بشریت قلق و کرب شامل ہو جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ بہت جلد وہ دن لائے کہ آپ کی کلی صحت کی میں بشارت سنوں ۔ اب موسم ربیع ہے۔ یقین ہے کہ آپ نے کسی قدر مناسب حال تنقیہ بدن کیا ہوگا اور اگر نہیں کیا اور کوئی عارضہ بدنی مانع نہ ہو تو اس طرف غور کریں کہ آیا کوئی مناسب ہے یا نہیں ۔ اگر مناسب ہو تو پھر توقف نہ توقف نہ کریں ۔ کسی قدر شہ ا قدر شیر خشت وغیرہ سے تلئین طبع ہو جائے تو شاید مناسب ہو۔ کبھی کبھی دیکھا گیا ہے کہ انواع دردسر کیلئے ایارج فیقرا بہت مفید ہوتا ہے اور اس عاجز نے اپنے دردسر کیلئے کہ جو دوری طور پر تخمینا تمہیں سال سے شامل حال ہے، استعمال کیا ہے اور مفید پایا ہے۔ ایک اور متوحش خبر سنی گئی ہے کہ گیاراں سو روپیہ کا اور نقصان آپ کا ہو گیا۔ چنانچہ ایک خط میں جو ارسال خدمت ہے یہ حال لکھا ہے ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ! مصیبت پہنچنے والی تو ضرور پہنچ جاتی ہے مگر کسی قدر رعایت انتظام ظاہر مسنون ہے۔ جس نے دیا اُس نے لیا۔ لیکن آئندہ بے احتیاطی کے طریقوں سے مجتنب رہنا ضروری ہے لَا يُلْدَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ کے پرسوں میری طرف سے آپ ۔ سے آپ کے نام گھوڑے کی سفارش کے ارش کیلئے ایک خط روانہ ہوا تھا۔ وہ خط میرے اقارب میں سے مرزا امام الدین، میرے چچا زاد بھائی نے بالحاح مجھ سے لکھوایا تھا۔ ہر چند میں جانتا تھا کہ اس کا لکھنا غیر موزوں وغیر محل ہے مگر چونکہ مرزا امام الدین صاحب دراصل میرے قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی ایمانی حالت خدا تعالیٰ درست کر دے اور خیالات فاسدہ سے چھڑا دے۔ اس لئے اُن کی دلجوئی کی غرض سے لکھا گیا ہے۔ لودہانہ کا معاملہ اب بالکل پختہ ہے۔ آپ کے ارادہ کا توقف ہے۔ خیریت مزاج سے جلد اطلاع بخشیں ۔ والسلام ۱۵ مارچ ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد از قادیان البقرة: ۱۵۷ ۲ بخاری کتاب الادب