مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 30

مکتوب نمبر ۱۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کارڈ پہنچا۔خدا تعالیٰ آپ کو جلد تر شفا بخشے۔مجھ کو آپ کی بار بار علالت سے دل کو صدمہ پہنچتا ہے اور بمقتضائے بشریت قلق و کرب شامل ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ بہت جلد وہ دن لائے کہ آپ کی کلّی صحت کی میں بشارت سنوں۔اب موسم ربیع ہے۔یقین ہے کہ آپ نے کسی قدر مناسب حال تنقیہ بدن کیا ہوگا اور اگر نہیں کیا اور کوئی عارضہ بدنی مانع نہ ہو تو اس طرف غور کریں کہ آیا کوئی مناسب ہے یا نہیں۔اگر مناسب ہو تو پھر توقف نہ کریں۔کسی قدر شیر خشت وغیرہ سے تلئین طبع ہو جائے تو شاید مناسب ہو۔کبھی کبھی دیکھا گیا ہے کہ انواع درد سر کیلئے ایارج فیقرا بہت مفید ہوتا ہے اور اس عاجز نے اپنے درد سر کیلئے کہ جو دَوری طور پر تخمیناً تیس سال سے شامل حال ہے، استعمال کیا ہے اور مفید پایا ہے۔ایک اور متوحش خبر سنی گئی ہے کہ گیاراں سَو روپیہ کا اور نقصان آپ کا ہو گیا۔چنانچہ ایک خط میں جو ارسال خدمت ہے یہ حال لکھا ہے۔ ۱؎ مصیبت پہنچنے والی تو ضرور پہنچ جاتی ہے مگر کسی قدر رعایت انتظامِ ظاہر مسنون ہے۔جس نے دیا اُس نے لیا۔لیکن آئندہ بے احتیاطی کے طریقوںسے مجتنب رہنا ضروری ہے لَایُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَیْنِ۔۲؎ پرسوں میری طرف سے آپ کے نام گھوڑے کی سفارش کیلئے ایک خط روانہ ہوا تھا۔وہ خط میرے اقارب میں سے مرزا امام الدین، میرے چچا زاد بھائی نے بالحاح مجھ سے لکھوایا تھا۔ہر چند میں جانتا تھا کہ اس کا لکھنا غیر موزوں وغیر محل ہے مگر چونکہ مرزا امام الدین صاحب دراصل میرے قریبی رشتہ داروں میں سے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی ایمانی حالت خدا تعالیٰ درست کر دے اور خیالات فاسدہ سے چھڑا دے۔اس لئے اُن کی دلجوئی کی غرض سے لکھا گیا ہے۔لودہانہ کا معاملہ اب بالکل پختہ ہے۔آپ کے ارادہ کا توقف ہے۔خیریت مزاج سے جلد اطلاع بخشیں۔والسلام خاکسار ۵؍ مارچ ۱۸۸۷ء غلام احمد از قادیان