مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 355
مکتوب نمبر ۱۹ مخدومی مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘۔آنمکرم کاخط پہنچا۔میں آپ کے لئے بہت دعا کروں گا۔آپ خداوند کریم پر بہت توکّل اور بھروسہ رکھیں آں مکرم آپ سچے دل سے ہمارے اس سلسلہ کے خادم ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔ہم نے دینی مصلحت اور شکر الٰہی کے طورپر ایک کتاب تحفہ قیصریہ نام بطور ہدیہ قیصرہ ہندکی خدمت میں بھیجنے کے لئے تجویز کی تھی۔آج ایک خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس ارادہ میں کامیاب نہ ہو۔ایک الہام میں ہماری جماعت کے ایک ابتلا کی طرف بھی اشارہ ہے مگر انجام سب خیروعافیت ہے۔خدا تعالیٰ نہایت توجہ سے اس سلسلہ کی مدد کرنا چاہتا ہے یہ الہام کہ انی مع الافواج اٰتِیْکَ بَغْتَۃً ۱؎ صاف دلالت کر رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی اور نشان ظہور میں آنے والا ہے۔باقی خیریت ہے۔بخدمت محبی سیٹھ صالح محمد صاحب السلام علیکم۔اور اگر محبی مرزاخدا بخش صاحب ہوں تو ان کی خدمت میں بھی السلام علیکم۔خاکسار ۹؍ جون ۱۸۹۷ء مرزا غلام احمد