مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 346
مکتوب نمبر۷ مخدومی مکرمی اخویم حاجی سیٹھ صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کل بذریعہ تار مبلغ یک صدروپیہ مرسلہ آنمکرم مجھ کو پہنچ گئے۔جزاکم اللّٰہ خیر الجزاء و احسن الیکم فی الدنیا والعقبٰی۔یہ ایک الطاف رحمانیہ ہے اور قبولیت خدمت کی نشانی ہے کہ آپ کی خدمات مالی سے اکثر پیش از وقت مجھ کو خبر دی جاتی ہے۔اس لئے ایسا ہی اتفاق ہوا اور دوسروں کے لئے بہت ہی کم ایسا معاملہ وقوع میں آیا ہے۔واللہ اعلم۔یہ عاجز ان دنوں بیمار رہا ہے اور اب بھی اکثر درد سر دورانِ سر کی بیماری لاحق ہے مگر الحمد للہ کہ ہزاروں خطرناک بیماریوں سے امن ہے۔میری متواتر علالت طبع کے باعث سے رسائل اربعہ کے طبع میں توقف ہوا اب میں خیال کرتا ہوں کہ شاید یہ کام آخر نومبر ۱۸۹۶ء تک کامل ہو جائے۔آئندہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے بخدمت محبی اخویم سیٹھ صالح محمد صاحب بعد سلام علیکم۔میری دانست میں سفر جاپان مناسب نہیں۔والسلام ۶؍ جون ۱۸۹۶ء خاکسار مرزا غلام احمد