مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 345
جاتا ہے کہ ایک دفعہ مسیح موعود اور اس کی جماعت پر قحط کا سخت اثر ہوگا سو حیرت ہے کہ کیا کیا جائے۔اگر دعا کے لئے وقت ملے تو دعا کروں ابھی تک ہماری جماعت میں سے اہل استطاعت میں سے ایک آپ ہیں جو حتی الوسع اپنی خدمات میں تعہد رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ یا تو نادار ہیںیا سچا ایمان ان کے دلوںمیں داخل نہیں ہوا لیکن ہمارے مرنے کے بعد بہت سے لوگ پیدا ہو جائیں گے کہ کہیں گے کہ اگر وہ وقت پاتے تو تمام مال اور جان سے قربان ہو جاتے مگر وہ بھی اس بیان میں جھوٹے ہوں گے۔کیونکہ اگر وہ بھی اس زمانے کو پاتے تو وہ بھی ایسے ہی ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ ان میں سچا ایمان بخشے۔خدا کے مامور جو آسمان سے آتے ہیں وہ اپنی جماعت کے ساتھ خرید اور فروخت کا سا معاملہ رکھتے ہیں۔لوگوں سے ان کا چند روزہ مال لیتے ہیں اور جاو دانی مال کا ان کو وارث بناتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ مشکلات کے وقت میں ایک اشتہار شائع کروں تا ہر ایک صادق کو ثواب کاموقع ملے اور اس میں کھلے کھلے طور پر آپ کا ذکر بھی کر دوں کیونکہ اب سخت ضرورت کا سامنا ہے اور ہمارے سیّد و مولیٰ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایسی ضرورتوں کے وقت جب ایسا کرتے تھے تو صحابہ دل وجان سے اس راہ میں قربان تھے، جو کچھ گھروں میں ہوتا تھا تمام آگے رکھ دیتے تھے۔غرض اسی طرح کااشتہار ہو گا۔والسلام ٭ ۲۶؍ ستمبر ۱۸۹۵ء خاکسار مرزا غلام احمد