مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 323

ؑ رخصتانہ قبل چاہتے ہیں تو عرض ہے کہ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ حضورؑ کو ہر وقت اختیار ہے کہ جب چاہیں رخصتانہ کرا لیں اگر حضورؑ فرمائیں تو ان ہی کپڑوں میں رخصت کر دوں۔مگر اگر حضورؑ کا خیال ہو )کہ جس طرح حضورؑ نے اس دفعہ میرے حاضر ہونے پر فرمایا تھا کہ ہمارا منشا اس سے یہ ہے کہ آپ کو اطلاع دیدیں کہ آپ رخصتانہ کی تیاری کر لیں ہم مکان بنوائیں گے اور اس میں پانچ چھ ماہ گزر جائیں گے( کہ میں نے تیاری کر لی ہو گی۔سو اس میں عرض ہے کہ میں اب تک کوئی تیاری نہیں کر سکا۔پس یہ حضورؑ کا رحم اور عنایت ہو گی پہلے کی طرح مجھے مہلت ہو۔حضورؑ میری ابتلائوں سے واقف ہیں اگر مجھ کو اس وقت جلدی کا خیال ہوتا تو میں جس طرح ہوتا خواہ کتنی تکلیف ہوتی تو بھی تیاری کرتا۔کیونکہ حضورؑ کے حکم میں تکلیف عین راحت ہے مگر پھر بھی مجھ کو اس وقت پر حضور کے حکم کی تعمیل کرنی ہے خواہ کچھ ہو۔)۲( رہی دوسری بات کہ حضورؑ نے بطور یاد دہانی اور تاکید یہ فرمایا تاکہ اس وقت رخصت ہو جائے تو عرض ہے کہ حضورؑ کا اس وقت کا حکم سو تاکید کی ایک تاکید تھا۔میں اسی دن سے دن رات اسی فکر میں ہوں )۳( رہا تیسرا امر کہ حضورؑ اپنے رحم اور فضل سے مجھ کو اس معاملہ میں اور مہلت عنایت فرمانا چاہتے ہیں اور ان ابتلائوں کے زمانہ میں کچھ سہولت محض اس ہمدردی کی وجہ سے جو حضورؑ کو مجھ سے ہے دینا چاہتے ہیں تو نہایت عجز اور ابتہال سے عرض ہے کہ اگر ایسا ہو تو حضورؑ کی نہایت ہی بندہ نوازی ہو کیونکہ اس طرح سب معاملہ سہولت سے طے ہو اور مجھ کو دقت پیش نہ آئے۔زینب کی صحت بھی چھ ماہ سے بہت خراب ہو رہی ہے۔اس میں بھی کچھ خداوند تعالیٰ عافیت کی صورت نکال دے اور میں بھی انتظام کافی کر سکوں۔بہر حال یہ عرض سب محض تعمیل حکم ہے ورنہ میری پہلی عرض ہے کہ سپردم بتو مایہ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را اور میری ابتلائوں اور تکالیف کا بھی حضور کو ہی خیال ہے۔راقم محمد علی خاں