مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 322
یہ مکتوب منجانب نواب صاحب بنام حضرت اقدس ہے ژ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم سیدی ومولای طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔پیرمنظور محمد صاحب تشریف لائے اور فرمایا کہ حضورؑ نے دریافت فرمایا ہے کہ زینب کے رختصانہ کے متعلق اتنی ہی بات ہے جتنی پہلے طے ہو چکی ہے یا کیا۔اس سوال سے مجھ کو تین خیال گزرے )۱( یہ کہ حضورؑ اس قرار داد سے قبل رخصتانہ چاہتے ہیں )۲( یہ کہ حضورؑ نے مزید تاکید کے لئے ان کو بھیجا ہے اس وقت پر رخصتانہ ہو جائے )۳( یہ کہ حضورؑ کچھ اور مہلت عطا فرمانا چاہتے ہیں۔میں نے پیرجی سے دریافت بھی کیا کہ اس کا کیا منشا ہے تو انہوں نے سوائے اس کے کوئی روشنی نہ ڈالی کہ شاید حضورؑ جلدی رختصانہ چاہتے ہیں چونکہ کوئی صاف بات پیر جی نے نہیں کہی۔اس لئے میں نے عرض کیا کہ میں خود حضورؑ کی خدمت )میں( تحریراً عرض کروں گا۔میں برابر سوچتا رہا۔مگر کوئی صاف بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔پس یہ تین باتیں جو میری سمجھ میں آئی ہیں ان کی بابت عرض ہے مگر پیشتر اس کے کہ کچھ عرض کروں اصولاً یہ عرض ہے کہ اول تو نکاح کے بعد لڑکی پر میکے والوں کا کوئی زور ہوتا ہی نہیں۔سسرال والے جب چاہیں لے جا سکتے ہیں میکے والوں کو اس امانت کے ادا کرنے میں عذر ہو ہی نہیں سکتا۔پس جب عام قاعدہ یہ ہے تو پھر حضورؑ کے معاملہ میں تو یہ حالت ہے جب سے بیعت کی ہے معہ جان، مال، عزت اپنے آپ کو بیچ چکا ہوں۔حضورؑ پر سب کچھ قربان ہے اور ہرج ہو یا نہ ہو۔نفع ہو یا نقصان ہر حالت میں حضورؑ کے حکم کی فرماں برداری فرض ہے بلکہ اس میں دل میں بھی کچھ ہرج رکھنا گناہ۔تو پھر ایسی حالت میں کیا عرض کر سکتا ہوں۔میں نے جو کچھ عرض کرنا ہو گا وہ بھی حضورؑ ہی کو سوچنا ہے اور جو نہیں عرض کرنا وہ بھی حضورؑ ہی کے سپرد۔میری اپنی رائے کسی بھی معاملہ میں اپنی نہیں۔میں تو حضورؑ کے حکم پر ہی چلنا چاہتا ہوں پس جب ہر معاملہ میں یہ حال ہے تو پھراس معاملہ میں بھی حضورؑ ہی جو حکم صادر فرمائیں گے وہی صائب ہو گا۔مگر چونکہ حضورؑ نے دریافت فرمایا ہے اس لئے الامر فوق الادب عرض ہے )۱(اول معاملہ میں کہ اگر حضور