مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 320
مکتوب نمبر۹۸ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔میری لخت جگر مبارکہ بیگم کی نسبت جو آپ کی طرف سے تحریک ہوئی تھی میں بہت دنوں تک اس معاملہ میں سوچتا رہا۔آج جو کچھ خدا نے میرے دل میں ڈالا ہے اس شرط کے ساتھ اس رشتے میں مجھے عذر نہیں ہوگا اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کو بھی اس میںتأمّل نہیں ہوگا۔اور وہ یہ ہے کہ مہر میں آپ کی دو سال کی آمدن جاگیر مقرر کی جائے یعنی پچاس ہزار روپیہ اور اس اقرار کے بارے میں ایک دستاویز شرعی تحریری آپ کی طرف سے حاصل ہو۔میں خوب جانتا ہوں کہ آپ نہایت درجہ اخلاص میںگداز شدہ ہیں اور آپ نے ہر ایک پہلو سے ثبوت دے دیا ہے کہ آپ کو جانفشانی تک دریغ نہیں مگر جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ اوّل تو آپ کی خداداد حیثیت سے بڑھ کر نہیں اور پھر آپ کی ذات کے متعلق نعوذ باللہ اس میں کوئی بدگمانی نہیں۔محض خدا نے میرے دل میں ایسا ہی ڈال دیا ہے اور ظاہری طور پر اس کے لئے ایک صحیح بنا بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ موت حیات کا اعتبار نہیں اور آپ کے خاندان کے عمل درآمد کے رو سے عورتیں اپنے شرعی حقوق سے محروم ہوتی ہیں۔اوراگر بعد میں کچھ گزارہ تجویز کیا جائے تو وہ مشکوک اور (نہ٭) اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور خدا آپ کی اولاد کی عمر دراز کرے۔وہ بعد بلوغ اپنے اپنے خیالات اور اغراض کے پابند ہونگے اور حق مہر کا فیصلہ ایک قطعی امر ہے اور ایک قطعی حق ہے جو خدا نے ٹھہرا دیا ہے اور عورتیں جو بے دست و پا ہیں اس حق کے سہارے سے ظلم سے محفوظ رہتی ہیں۔آپ کی زندگی میں اس مہرکا مطالبہ نہیں لیکن خدانخواستہ اگر لڑکی کی عمر ہو اور آپ کی عمر وفا نہ کرے تو اس کی تسلی اور اطمینان کیلئے اور پریشانیوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ طریق اور اس قدر مہر کافی ہوگا تا کہ دوسروںکے لئے صورتِ رُعب قائم رہے۔یہ وہ امر ہے جس کو سوچنے کے لئے میں آپ کو اجازت نہیں دیتا۔ایک قطعی فیصلہ ہے اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اگر ان دونوں باتوں کی آج آپ تکمیل کر دیںتو گو لڑکی ایک سال کے بعد