مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 303
مکتوب نمبر۸۶ ملفوف ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاعنایت نامہ پہنچا۔خاکسار بباعث کثرت پیشاب اور دورانِ سر اور دوسرے عوارض کے خط لکھنے سے قاصر رہا۔ضعف بہت ہو رہاہے۔یہاں تک کہ بجز دو وقت یعنی ظہر اور عصر کے گھر میں نماز پڑھتا ہوں۔آپ کے خط میں جس قدر تردّدات کا تذکرہ تھا پڑھ کر اور بھی دعا کے لئے جوش پیدا ہوا۔میںنے یہ التزام کر رکھا ہے کہ پنج وقت نماز میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اورمیںبہ یقین دل جانتا ہوں کہ یہ دعائیں بیکار نہیں جائیںگی۔ابتلائوں سے کوئی انسان خالی نہیں ہوتا۔اپنے اپنے قدر کے موافق ابتلا ضرور آتے ہیں اور وہ زندگی بالکل طفلانہ زندگی ہے جو ابتلائوں سے خالی ہو۔ابتلائوں سے آخر خد اتعالیٰ کا پتہ لگ جاتاہے۔حوادث دَہر کاتجربہ ہو جاتاہے اور صبر کے ذریعہ سے اجر عظیم ملتا ہے۔اگر انسان کوخدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان ہے تو اس پر بھی ایمان ضرور ہوتا ہے کہ وہ قادر خدابلائوں کے دور کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔میرے خیال میں اگرچہ وہ تلخ زندگی جس کے قدم قدم میں خارستان مصائب و حوادث و مشکلات ہے، بسا اوقات ایسی گراں گزرتی ہے کہ انسان خود کشی کا ارادہ کرتا ہے۔یا دل میں کہتا ہے کہ اگر میں اس سے پہلے مر جاتا تو بہتر تھا۔مگر درحقیقت وہی زندگی قدرتاً ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے سچا اور کامل ایمان حاصل ہوتا ہے۔ایمان ایوبؑ نبی کی طرح چاہئے کہ جب اس کی سب اولاد مر گئی اور تمام مال جاتا رہا تو اس نے نہایت صبر اور استقلال سے کہا کہ میں ننگا آیا اور ننگا جائوں گا۔پس اگر دیکھیں تو یہ مال اورمتاع جو انسان کو حاصل ہوتا ہے صرف خدا کی آزمائش ہے۔اگر انسان ابتلا کے وقت خدا تعالیٰ کا دامن نہ چھوڑے۔تو ضرور وہ اس کی دستگیری کرتا ہے۔خدا تعالیٰ درحقیقت موجود ہے اور درحقیقت وہ ایک مقرر وقت پر دعا قبول کرلیتا ہے اورسیلاب ہموم وغموم سے رہائی بخشتا ہے۔پس قوی ایمان کے ساتھ اس پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔وہ دن آتا ہے کہ یہ تمام ہموم وغموم صرف ایک گزشتہ قصہ ہو جائے گا۔آپ جب تک مناسب سمجھیں لاہور میں رہیں۔