مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 295
’’قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بناوے‘‘ اور مکتوب زیر بحث میں ’’جو‘‘ کا لفظ موجود نہیں۔ان شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں الہاموں میں سے مدت قبل یعنی ۲۱؍ دسمبر ۱۸۹۸ء کا الہام مراد ہے جو معیّن طور پر حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے لئے ہوا تھا اور اس میں ’’جو‘‘ کا لفظ بھی موجود نہیں۔سو یہ مکتوب زیر بحث اواخر ۱۹۰۴ء سے ۱۳؍ نومبر ۱۹۰۶ء تک کے عرصہ کا ہے۔میرا اندازہ ہے کہ اس عرصہ کے آخری حصہ کا ہے جب کہ ریاست کے پولیٹکل ایجنٹ اور لیفٹیننٹگورنر پنجاب کی طرف سے مایوسی ہوئی اور معاملہ وائسرائے تک پہنچایا گیا۔چنانچہ وہاں کامیابی ہوئی۔اس معاملہ کے متعلق مکتوب ۹۴ کتاب ہذا ہے۔