مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page iii
IV (۱) مکتوبات بنام حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب خلیفة المسح الاول اگر چہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا ہے، آپ کے تمام صحابہ ”آخرین منهم “ کے مصداق تھے اور اپنے صدق و وفا میں اپنی مثال آپ تھے۔ لیکن جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ اصحابی کالنجوم کی مثال تھے اور اپنے صدق و وفا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام میں ایک منفرد اور ممتازشان کے مالک تھے ۔ اسی طرح حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب کو اپنے صدق و وفا اور محبت و خدمت کے لحاظ سے اپنے آقا مہدی دوراں کی نظر میں وہ مقام حاصل ہوا جو سب سے بلندتر اور ارفع شان کا حامل ہے۔ آپ نے اپنے آقا سے ان الفاظ میں اپنی دعا اور دلی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے لئے دعا کی درخواست کی ۔ دو عالی جناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں ۔۔۔ مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہوں۔ دعا فرماویں کہ میری موت صدیقوں کی موت 66 ہو ۔ ( فتح اسلام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آپ کے لئے دعاؤں کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے آپ کو مقام صد یقیت پر فائز فرمادیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے بارہ میں تحریر فرماتے ہیں۔ اس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے ۔۔۔ جب وہ میرے پاس آ کر مجھ سے ملا تو میں نے اسے اپنے رب کی آیتوں میں سے ایک آیت پایا اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ میری اس دعا کا نتیجہ ہے جو میں ہمیشہ کیا کرتا تھا اور میری فراست نے مجھے بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے منتخب بندوں میں سے ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ ہر ایک امر میں میری اس طرح پیروی کرتا ہے جیسے نبض کی حرکت تنفس کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔ ( ترجمه از عربی عبارت مندرجہ ”آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۸۱ تا۶ ۵۸ )