مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 261

حدیث شریف میں جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا ۱؎ آتا ہے گویا کہ ہر جگہ نماز پڑھی جا سکتی ہے خواہ بغیر جماعت کے ہو اور ایک مکفوف العین صحابیؓ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں انہوں نے عرض کی کہ حضورؑ میرے گھر کے کسی حصہ میں دعا فرمائیں تا میں اس جگہ کو مسجد بنا لوں۔سو اسی کو مسجد البیت کہتے ہیں۔بیت الدعا خلوت میںدعائیں کرنے کے لئے بنائی گئی اس لئے اسے کھلا اور وسیع نہیں بنایا گیا ورنہ اگر وہ بھی باجماعت نماز اداکرنے کیلئے استعمال میں لانی ہوتی تو کھلی بنائی جاتی۔لیکن بیت العافیۃ والی مسجد البیت کی غرض ہی یہ تھی کہ جب حضورؑ علالت کے باعث مسجد میں نہ جا سکیں تو وہاں مستورات اور بچوں کو ساتھ شامل کر کے با جماعت نماز ادا کر لیا کریں اس لئے اس کے واسطے کھلی نہ کہ تنگ جگہ تجویز کی گئی اور وہ کھلی جگہ یعنی برآمدہ ہے جو سارا یکساں کھلا ہے اور وہاں دعاؤں کے لئے خلوت اور یکسوئی کا کوئی موقعہ نہیں۔سو یہ اندرونی شہادت بہت وزنی ہے۔حضورؑ نے اپنے مکتوب میں مسجد البیت کے متعلق تحریر فرمایا ہے کہ اس میں خلوت میسر آئے گی ورنہ باقی کا مکان کھلا ہے جس میں ہر طرف سے بچے اور عورتیں آتی رہتی ہیں اورخلوت میسر نہیں آتی اور یہ بات صرف بیت الدُّعا پر ہی صادق آتی ہے۔پس یہ مکتوب ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۳ء کے قریب کا ہے۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سے ساری تفصیل بالا کا راقم نے ذکر کیا ہے۔آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں۔