مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 260
وغیرہ اور بچے بھی آ جاتے ہیں اور دعا کا موقعہ کم ملتا ہے اس لئے ایک ایسا حجرہ اس کے ساتھ تعمیر کیا جاوے جس میں صرف ایک آدمی کے نشست کی گنجائش ہو اور چارپائی بھی نہ بچھ سکے تا کہ اس میں کوئی اور نہ آ سکے اس طرح سے مجھے دعا کیلئے عمدہ وقت اور موقعہ مل سکے گا۔چنانچہ اس وقت مغربی جانب جو دریچہ ہے اس کے ساتھ حجرے کیلئے عمارت شروع ہوگئی ہے‘‘۔البدر بابت ۳؍ اپریل ۱۹۰۳ء میں (صفحہ۸۸ پر) مرقوم ہے کہ ’’۲۰ مارچ کے البدر میں جس حجرہ دعائیہ کی ہم نے خبر دی ہے اس کا نام حضرت احمد مرسل یزدانی نے مسجد البیت و بیت الدعا تجویز فرمایا ہے‘‘۔دارالمسیح کے ایک چوبارہ کانام بیت العافیۃ ہے جو اس کے برآمدہ کی پیشانی پر مرقوم ہے۔اس برآمدہ کی مغربی دیوار کے اندرونی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ سے یہ الفاظ سیاہی سے مرقوم ہیں ’’مسجد البیت‘‘ ۴؍ جون ۱۹۰۷ء مطابق ۲۲؍ ربیع الثانی‘…‘ اس وقت سن ہجری ۱۳۲۵ تھا وہی مرقوم ہوگا لیکن اب پڑھا نہیں جا سکتا۔نیز ربیع الثانی کی تاریخ ۲۲ اور ۲۳ دونوں پڑھی جا سکتی ہیں۔جنتری کی رُو سے ۲۲ چاہئے۔اس سوال کا کہ دونوں میں سے کونسی مسجد البیت اس مکتوب میں مراد ہے۔یہ جواب ہے کہ خاکسار مرتب کے نزدیک وہ مسجد البیت مراد ہے جسے بیت الدعا بھی کہتے ہیں۔گو الحکم نے اپنے پرچہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۰۳ء میں جہاں اس کی تکمیل کا ذکر کیا ہے اسے صرف بیت الدعا لکھا ہے۔غالباً اس کا یہ نام مسجد البیت نام پر غالب آکر زیادہ متعارف و شائع ہو گیا ہو۔چنانچہ سوائے البدر کے مذکورہ بالا حوالہ کے اس کا نام مسجد البیت سلسلہ کے لٹریچر میں کہیں مذکور نہیں اور نہ ہی ان صحابہ کرام کو اس کا علم ہے جن کو دارالمسیح میں حضورؑ کے عصرِ سعادت میں قیام رکھنے کا موقعہ ملا نہ ہی حضور کے خاندان میں اس نام کا علم ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپریل ۱۹۵۰ء میں حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو اور مارچ ۱۹۵۰ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم نے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب کو خطوط لکھے ان میں بھی بیت الدّعا کانام ہی آتا ہے۔(ضمیمہ اصحابِ احمد جلد اوّل صفحہ۲۲ و مکتوبات اصحابِ احمد جلد اوّل صفحہ۵۷) بیت الدعا بھی مسجد البیت ہے کیونکہ حضورؑ نے اسے اسی نام سے اس مکتوب میں پکارا ہے۔