مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 259

مکتوب نمبر۵۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ میں نے آپ کے اس خط پڑھنے کے وقت یہ محسوس کیا ہے کہ جس قدر امراض اور اعراض لاحق ہوگئے ہیں اکثر ان کی کثرت ہموم و غموم کا نتیجہ ہے۔عجیب دردناک آپ کا یہ خط ہے کہ جس سے دل پر لرزہ پڑتا ہے لیکن جب میں خدا تعالیٰ کے کاموں پر نظر کرتا ہوں تو اُس کی قدرتوں پر نظر کر کے دل امید سے بھر جاتاہے۔میں آپ کے لئے دعا تو کرتا رہا ہوں لیکن دعا کی حقیقت پر نظر کر کے جو اپنے اختیار میں نہیں ہے مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اب تک میں نے دعا نہیں کی ہے۔سو میں نے اس خلوت کے لئے ایک مسجد البیت بنائی ہے میں امید رکھتا ہوں کہ اس مسجد البیت میں مجھے اُس خاص حالت کا موقعہ مل جائے گا کیونکہ میرا یہ مکان کھلا مکان ہے جس میں ہر طرف سے بچے عورتیں آتی رہتی ہیں اور خلوت میسر نہیں آتی۔سو اب میں آپ کے لئے انشاء اللہ خاص طور پر دُعا کروں گا۔آپ غموں کے سلسلہ کو حوالہ خدا کریں۔مجھے بھی امراض دامن گیر ہیں۔تین اوپر کے حصہ میں اور دو۲ نیچے کے حصہ میں۔مگر میں امید کی قوت سے جیتا ہوں۔اگر امید نہ ہو تو ہم ایک دم میں مر جائیں۔سو آپ تسلی رکھیں۔جس طرح کوئی اپنے عزیز بچوں کے لئے دعا کرتا ہے ایسا ہی آپ کے لئے کروں گا۔خدا تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اورغموم ہموم کے گرداب سے نجات بخشے۔آمین۔کبھی کبھی چند قدم ہوا خوری بھی کر لیا کریں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ (ب) نوٹ از مرتب: البدر بابت ۲۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء میں (صفحہ۷۲ پر) مرقوم ہے کہ ’’بعد نماز جمعہ مورخہ ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس ؑنے تجویز فرمایا کہ چونکہ بیت الفکر میں اکثر مستورات