مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 258
مکتوب نمبر۵۳ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی نواب صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یہ مضمون پڑھ کر کہ عزیزی عبدالرحمن خاں کو پھر بخار ہو گیاہے، نہایت قلق ہوا۔خدا تعالیٰ شفاء بخشے۔اب میں حیران ہوں کہ اس وقت جلد آنے کی نسبت کیا رائے دوں۔پھر دعا کرنا شروع کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ شفاء بخشے۔اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اورصرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کب تک یہ ابتلا دور ہو۔لوگ سخت ہراساں ہو رہے ہیں زندگی کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔ہر طرف چیخوں اور نعروں کی آواز آتی ر ہتی ہے، قیامت برپا ہے۔اب میں کیا کہوں اور کیا رائے دوں۔سخت حیران ہوں کہ کیا کروں۔اگر خدائے تعالیٰ کے فضل سے بخار اتر گیا ہے اور ڈاکٹر مشورہ دے دے کہ اس قدر سفر میں کوئی حرج نہیں تو بہت احتیاط اور آرام کے لحاظ سے عبدالرحمن کو لے آویں۔مگر بٹالہ سے ڈولی کا انتظام ضرور چاہئے۔اس جگہ نہ ماجیور ڈولی بردار ملتا ہے نہ ڈولی کا بندوبست ہو سکتا ہے۔بٹالہ سے کرنا چاہئے۔آپ کے گھر میں ہر طرح خیریت ہے۔ام حبیبہ مرزا خدا بخش کی بیوی برابر آپ کے گھر میں سوتی ہے اوربچے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔وہ اکثر روتے چیختے رہتے ہیں۔کوئی عورت نہیں جوا ن کی حفاظت کرے اس لئے یہ تجویز خیال میں آتی ہے کہ اگر ممکن ہوتو چند روز مرزا خدا بخش آکر اپنے بچوں کو سنبھالیں۔وہ بالکل ویرانہ حالت میں ہیں۔باقی سب طرح خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکرر یہ کہ آتے وقت ایک بڑا بکس فینائل کا جو سولہ یا بیس روپیہ کو آتا ہے، ساتھ لے آویں۔اس کی قیمت اس جگہ دی جاوے گی اور علاوہ اس کے آپ بھی اپنے گھر کے لئے فینائل بھیج دیں اورڈس انفیکٹکے لئے رس کپور اس قدر بھیج دیں جو چند کمروں کے لئے کافی ہو۔