مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 254
مکتوب نمبر۵۰ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کاتحفہ پارچات نفیس و عمدہ جو آپ نے نہایت درجہ کی محبت اور اخلاص سے عطا فرمائے تھے، مجھ کو مل گئے ہیں۔اس کا شکریہ اد اکرتا ہوں۔ہر ایک پارچہ کو دیکھ کر معلوم ہو تا ہے کہ آں محب نے بڑی محبت اور اخلاص سے ان کوتیار کرایا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اپنے بے انتہا اور نہ معلوم کرم اور فضل آپ پر کرے اور لباس التقویٰ سے کامل طور سے اولیاء اور صلحاء کے رنگ سے مشرّف فرماوے۔ایک بڑی خواہش ہے کہ آپ فرصت پا کر تشریف لاویں کیونکہ اب تک یک سُوئی اور مخالطت کی صحبت کا آپ کو اتفاق نہیں ہوا اورجو کچھ آن محب نے صاحب کمشنر کی زبانی سنا تھا، اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں ہے۔ہمارا عقیدہ اور خیال انگریزی سلطنت کی نسبت بخیر اور نیک ہے۔اس لئے آخر انگریزوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب کچھ تہمتیں ہیں۔کوئی تردّد کی جگہ نہیں اور علالت طبیعت کے بارے میں جو آپ نے لکھا تھا، خدا تعالیٰ کافضل درکار ہے۔سب خیر ہے۔میں بہت دعا کرتا ہوں۔بہتر ہے کہ اکثر مچھلی کے تیل کا استعمال شروع رکھیں اورجو تریاق الٰہی میں نے بھیجا تھا۔ان میں سے یعنی دونوں قسموں میں سے کھایا کریں، بہت مفید ہے۔اور یہ جو آپ نے اپنے گھر کی نسبت لکھا تھا کہ مجھ کوکچھ بہت خوش نہیں رکھتیں۔اس میں میری طرف سے یہی نصیحت ہے کہ آپ اپنے گھر کے لوگوں سے بہت احسان اور خلق اور مدارت سے پیش آیا کریں اور غائبانہ دعا کریں۔حدیث شریف میں ہے کہ خَیْرُ کُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ۔۱؎ انشاء اللہ بہت خوبیاں پید اہوجائیںگی۔دنیا ناپائیدار ہے۔ہر ایک جگہ اپنی مروّت اور جوانمردی کانمونہ دکھلانا چاہئے اورعورتیں کمزور ہیں۔وہ اس نمونہ کی بہت محتاج ہیں۔حدیث سے