مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 253
مکتوب نمبر۴۹ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ ہمدست مولوی محمد اکرم صاحب مجھ کو ملا اور اوّل سے آخر تک پڑھا گیا۔دل کو اس سے بہت درد پہنچا کہ ایک پہلو سے تکالیف اور ہموم و غموم جمع ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے مخلصی عطا فرماوے۔مجھ کو (جہاں تک انسان کو خیال ہو سکتا ہے) یہ خیال جوش مار رہا ہے کہ آپ کے لئے ایسی دعا کروں جس کے آثار ظاہر ہوں۔لیکن میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں اور حیران ہو ں کہ باوجودیکہ میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کو ان مخلصین میں سے سمجھتا ہوں جو صرف چھ سات آدمی ہیں۔پھر بھی ابھی تک مجھ کو ایسی دعا کا پورا موقعہ نہیں مل سکا۔دعا تو بہت کی گئی اور کرتا ہوں۔مگر ایک قسم دعا کی ہوتی ہے جو میرے اختیار میں نہیں۔غالباً کسی وقت کسی قدر ظہور میں آئی ہو گی اور اس کااثر یہ ہو اہو گا کہ پوشیدہ آفات کو خدا تعالیٰ نے ٹال دیا۔لیکن میری دانست میں ابھی تک اکمل اور اتم طور پر ظہور میں نہیں آئی۔مرزا خدا بخش صاحب کا اس جگہ ہونا بھی بہت یا ددہانی کا موجب ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ کسی وقت کوئی ایسی گھڑی آجائے گی کہ یہ مدّعا کامل طور پر ظہور میں آجائے گا۔اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اور کامل طور پر قوت ایمان عطا فرماوے اور ہر طرح سے امن میں رکھے۔تب اس کے باقی ہموم وغموم کچھ چیز نہیں۔میر ادل بہت چاہتا ہے کہ آپ دو تین ماہ تک میرے پاس رہیں۔نہ معلوم کہ یہ موقعہ کب ہاتھ آئے گا اورمدرسہ کے بارے میں انشاء اللہ استخارہ کروں گا۔ا گر کچھ معلوم ہوا تو اطلاع دوں گا۔باقی ہر طرح خیریت ہے۔والسلام ۲۹؍ جنوری ۱۹۰۰ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ