مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 250
مکتوبات احمد ۲۵۰ جلد دوم کھول کر بیان کر دیا ہے۔ آپ نے اپنے اس دعوٹی سے کبھی انکار نہیں کیا۔ البتہ اس کا وہ مفہوم اور منطوق بھی کبھی قرار نہیں دیا ۔ جو آپ کے معاندین ومنکرین نے آپ کی طرف منسوب کیا۔ (عرفانی ) مکتوب نمبر ۴۷ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالیٰ ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں ہمدست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا۔ جب آپ قادیان آئیں گے یہ دوا تریاق الہی سے فوائد میں راس بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں ۔ جیسے مشک ۔ عنبر ۔ نر بسی ۔ مروارید ۔ سونے کا کشتہ فولاد ۔ یا قوت احمر - کونین ۔ فاسفورس - کہر با۔ مرجان ۔صندل - کیوڑہ ۔ زعفران ۔ یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ مقوی جگر ۔ مقوی معده مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی ۔ مصفی خون ہے ۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اول تا مل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے۔ اس لئے اس قدر خر چ گوارا کیا گیا۔ چالیس تولہ سے کچھ زیادہ اس میں یا قوت احمر ہے۔ اگر خریدا جاتا تو شاید کئی سو روپیہ سے آتا۔ بہر حال یہ دوا خدا تعالیٰ کے فضل سے تیار ہوگئی ہے گو بہت ہی تھوڑی ہے۔ لیکن اس قدر بھی محض خدا تعالیٰ کی عنایت سے تیار ہوئی ۔ خوراک اس کی اول استعمال میں دورتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے ۔ تا گرمی نہ کرے ۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور ثبورات اور جذام اور ذیا بیطس اور انواع و اقسام کے زہرناک امراض کے لئے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کو ایک عجیب اثر ہے۔ سرخ گولیاں میں نے نہیں بھیجیں ۔ کیونکہ صرف بواسیر اور جذام کے لئے ہیں اور ذیا بیطیس کو بھی مفید ہے ۔ اگر ضرورت ہو گی تو وہ بھی بھیج دوں گا ، موجود ہیں ۔ مرزا خدا بخش کو نصیبین میں بھیجنے کی پختہ تجویز ہے ۔ خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے کئی موقعے