مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 248
مکتوب نمبر۴۶ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔حال یہ ہے اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کوجو الہام ہو اہے اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی کا لفظ آگیاہے۔جیسا کہ یہ الہام ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ ۱؎ اورجیساکہ یہ الہام جَرِیُّ اللّٰہِ فِی حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ۲؎ اور جیسا کہ یہ الہام ’’دنیا میں ایک نبی آیا مگر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا‘‘۔۳؎ نوٹ:۔ایک قرأت اس الہام کی یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور یہی قرأت براہین میں درج ہے اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دوسری قرأت درج نہیں کی گئی۔منہ ایسے ہی بہت سے الہام ہیں۔جن میںاس عاجز کی نسبت نبی یا رسول کا لفظ آیا ہے۔لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے جو اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت مراد ہے۔جس سے انسان خود صاحب شریعت کہلاتا ہے۔بلکہ رسول کے لفظ سے تو صرف اس قدر مرا د ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا اور نبی کے لفظ سے صرف اس قدر مراد ہے کہ خد ا سے علم پاکر پیشگوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا۔سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں، اسلام میں فتنہ ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے۔اس لئے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں اور دلی ایمان سے سمجھنا چاہئے کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۴؎ اور اس آیت کاانکار کرنا یا استخفاف کی نظر سے اس کودیکھنا درحقیقت اسلام سے علیٰحدہ ہونا ہے۔جو شخص انکار میں حد سے گزر جاتا ہے، جس طرح کہ وہ ایک خطرناک حالت میں ہے ایسا ہی وہ بھی خطرناک حالت میں ہیجو شیعوں کی طرح اعتقاد میں حد سے گزر جاتا ہے۔