مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 245
مکتوبات احمد ۲۴۵ جلد دوم مکتوب نمبر ۴۴ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالی ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میں بباعث علالت طبع چند روز جواب لکھنے سے معذور رہا۔ میری کچھ ایسی حالت ہے کہ ایک دفعہ ہاتھ پیر سر د ہو کر اور نبض ضعیف ہو کر غشی کے قریب قریب حالت ہو جاتی ہے اور دورانِ خون یک دفعہ ٹھہر جاتا ہے۔ جس میں اگر خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں میں یہ حالت دو دفعہ ہو چکی ہے ۔ آج رات پھر اس کا سخت دورہ ہوا۔اس حالت میں صرف عنبر یا مشک فائدہ کرتا ہے ۔ رات دس خوراک کے قریب مشک کھا یا پھر بھی دیر تک مرض کا جوش رہا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ صرف خدا تعالیٰ کے بھروسہ پر زندگی ہے ۔ ورنہ دل جو رئیس بدن ہے ، بہت ضعیف ہو گیا ہے ۔ آپ نے دوا کے بارے میں جو دریافت کیا تھا۔ ایام امید میں دوا ہر گز نہیں کھانی چاہئے اور نہ ہمیشہ کھانی چاہئے۔ کبھی ایک ہفتہ کھا کر چھوڑ دیں اور ایک دو ہفتہ چھوڑ کر پھر کھا نا شروع کریں۔ مگر ایام حمل میں قطعاً ممنوع یعنی ہر گز نہیں کھانی چاہئے ۔ جب تک بچہ پیدا ہو کر دو مہینہ نہ گزر جائیں ۔ اگر سرعت تنفس باختلاج قلب ہو تو تدبیر غذا کافی ہے۔ یعنی دودھ، مکھن، چوزہ کا پلاؤ استعمال کریں۔ بہت شیرینی سے پر ہیز کریں۔ شیرہ بادام مقشر الا بچی سفید ڈال کر پیویں ۔ موسم سرما میں اسکاٹس ایمیلیشن استعمال کریں۔ یعنی مچھلی کا تیل جو سفید اور جما ہوا شہد کی طرح یاد ہی کی طرح ہوتا ہے۔ بدن کو فربہ کرتا ہے۔ دل کا مقوی ہے ۔ پھیپھڑہ کو بہت فائدہ کرتا ہے۔ چہرہ پر تازگی اور رونق ۔ اور سرخی آتی ہے ۔ لاہور سے مل سکتا ہے ۔ مگر میری دانست میں ان دنوں میں استعمال کرنا جائز نہیں ۔ کسی قدر حرارت کرتا ہے۔ ان دنوں میں سادہ مقوی غذا ئیں مکھن ۔ گھی ۔ دودھ اور مرغن پلاؤ ہے استعمال کرنا کافی ہے اور کبھی کبھی شیرہ بادام استعمال کرنا۔ وہ دوا یعنی گولیاں وہ ہمیشہ کے استعمال کے لئے نہیں ہے ۔ ایک گولی خوراک کافی ہے ۔ اگر مہندی کا پانی بھی نہ پی سکیں تو یونہی کھا لیں ۔ مگر