مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 235
مکتوبات احمد ۲۳۵ جلد دوم خاوند اور بیوی اور بچوں اور دوستوں میں جدائی ڈالتی ہے جس کا دوسرے لفظوں میں نام موت ہے دعا کرنا چاہیئے کہ وہ بے وقت نہ آوے اور تباہی نہ ڈالے اور دل نرم رکھنا چاہیئے اور ان کو سمجھا دیں کہ نماز کی پابندی کریں نماز جناب الہی میں عرض معروض کا موقعہ دیتی ہے اپنی زبان میں دنیا اور آخرت کے لئے دعا ئیں کریں بد تقدیروں سے ڈرتے رہیں۔ خدا تعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے جو امن کے وقت میں ڈرتے رہیں اور نیز آپ ان کے واسطے نماز میں دعائیں کریں یہ ناز یبا بات ہے کہ ادنیٰ لغزش دیکھ کر دل میں قطع تعلق کریں بلکہ وفاداری سے اصلاح کے لئے کوشش کریں اور سچی ہمدردی سے کام لیں ۔ اور آپ نے جو پانچ ہزار روپیہ لکھا ہے میرے نزدیک آپ کا دوسروں کے شامل ہونا عمدہ ا عمدہ طریق نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ آپ علیحدہ طور پر اشتہار دیں کہ چونکہ مسلمانوں میں تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اور اس طرح قوم میں ضعف پیدا ہوتا جاتا ہے اس لئے میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی جو بانی مبانی اس تفرقہ کے ہیں شخص مدعی سے مباہلہ کر لیں الہام کا مدعی جبکہ ایک سال کی مہلت الہام کی بنا پر پیش کرتا ہے تو وہی مہلت قبول کر لیں اگر اس مدت میں شخص مدعی ہلاک ہو گیا یا کسی اور ذلیل عذاب میں مبتلا ہو گیا تو خود جماعت اُس کی بے اعتقاد ہو کر متفرق ہو جائے گی اور اس طرح پر قوم میں سے فتنہ اٹھ جائے گا اور اس صورت میں محض نیک نیتی اور ہمدردی قوم کی وجہ سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ مبلغ پانچ ہزار روپیہ مولوی محمد حسین صاحب کو بطور نذر کے دیں گے اور ان کے لئے دو خوشیاں ہوں گی کہ دشمن مارا اور روپیہ ملا لیکن اگر اس سال کے عرصہ میں جو مباہلہ کے دن سے شمار کیا جائے گا کوئی بلا مولوی صاحب پر نازل ہوئی تو پھر سمجھنا چاہیئے کہ مولوی صاحب اس جنگ و جدل میں حق پر نہیں ہیں تو اس صورت میں قوم کو شخص مدعی کی طرف بصدق دل رجوع کرنا چاہیئے یہ فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ممکن نہیں کہ بغیر ارادہ الہی کے کوئی شخص یونہی مارا جاوے۔ غرض یہ اشتہار آپ کی طرف سے ہونا چاہیئے اُمید کہ بڑا موثر ہو گا اگر آپ اشارہ فرما دیں تو اسی جگہ چھاپ دیا جائے جلد مطلع فرمایا جاوے۔ اور سرس یعنی سلطان الاشجار کے عرق نکالنے کے لئے پتے اور بینچ کافی نہیں پھول کی ضرورت ہے۔ والسلام ۱۸ نومبر ۱۸۹۸ء الحکم ۳۱ را گست ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۳ ☆ خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان