مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 234
مکتوب نمبر۳۵ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آں محب کے چار خط یکے بعد دیگرے پہنچے۔آپ کے لئے دعا کرنا تو میںنے ایک لازمی امر ٹھہرا یا ہوا ہے۔لیکن بے قرار نہیں ہونا چاہئے کہ کیوں اس کااثر ظاہر نہیں ہوتا۔دعائوں کے لئے تاثیرات ہیں اور ضرور ظاہر ہوتی ہیں۔ایک جگہ حضرت ابوالحسن خرقانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیس برس میں نے بعض دعائیں کیں جن کا کچھ بھی اثر ظاہر نہ ہوا اور گمان گزرا کہ قبول نہیں ہوئیں۔آخر تیس برس کے بعد وہ تمام مقاصد میسر آگئے اور معلوم ہوا کہ تمام دعائیں قبول ہو گئی ہیں۔جب دیر سے دعا قبول ہوتی ہے تو عمر زیادہ کی جاتی ہے۔اور جب جلد کوئی مراد مل جاتی ہے تو کمی عمر کااندیشہ ہے۔میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ ایک مطلب کے حصول کی بشارت خدا تعالیٰ کی طرف سے سن لوں۔لیکن وہ مطلب دیر کے بعد حاصل ہونا موجب طول عمر ہو۔کیو نکہ طول عمر اور اعمال صالحہ بڑی نعمت ہے۔اور آپ نے اپنے گھر کے لوگوں کی نسبت جو لکھا تھا کہ بعض امور میں مجھے رنج پید ا ہوتا ہے۔سو میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے۔میں اس حدیث پر عمل کرنا علامت سعادت سمجھتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور وہ یہ ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ۱؎ یعنی تم میں سے اچھا آدمی وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا ہو۔عورتوں کی طبیعت میں خدا تعالیٰ نے ا س قدر کجی رکھی ہے کہ کچھ تعجب نہیں کہ بعض وقت خدا اور رسول یا اپنے خاوند یا خاوند کے باپ یا مرشد یا ماں یا بہن کو بھی بُرا کہہ بیٹھیں اور ان کے نیک ارادہ کی مخالفت کریں۔سو ایسی حالت میں بھی کبھی ایک مناسب رعب کے ساتھ اور کبھی نرمی سے ان کو سمجھا دیں اور ان کی تعلیم میں مشغول رہیں۔لیکن ان کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کریں ا ور مروّت اور جوانمردی سے پیش آویں اور اُن کو سمجھاتے رہیں کہ مسلمان کے لئے آخرت کا فکر ضروری ہے تا خدا تعالیٰ مصیبتوں سے بچاوے وہ ہیبت ناک چیز جو