مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 226
مکتوبات احمد ۲۲۶ جلد دوم را ہوں ضلع جالندھر کا باشندہ تھا اور خا کی شاہ اس کا عرف تھا۔ وہ عیسائی بھی رہ چکا تھا۔ قادیان میں آیا اور اپنی اس اباحتی زندگی کو جو عیسائیت میں رہ چکا تھا۔ یہاں بھی جاری رکھنا چاہا۔ مگر حضرت اقدس تک جب اس کی شکایت پہنچی تو آپ نے اسے نکال دیا۔ اس ۔ آپ کے ساتھ جس شخص غلام محمد کا ذکر ہے۔ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مکتوب میں اس کے متعلق اس قدر فرمایا ہے کہ وہ اس کا دوست تھا۔ دراصل ہم وطنی اور ہم صحبتی نے اسے بھی اس وقت اس بہشت سے نکالا ۔ لیکن چونکہ اس میں اخلاص اور سلسلہ کے لئے سچی محبت تھی ۔ خدا نے اس کو ضائع نہیں کیا۔ وہ اور اس کا سارا خاندان خدا کے فضل اور رحم سے نہایت مخلص ہے ۔ خا کی شاہ نے جیسا کہ خود حضرت نے لکھ دیا ہے، یہاں سے نکل کر اپنی بد باطنی کا عملی اظہار کر دیا۔ آخر وہ خائب خاسر رہ کر مر گیا ۔ اب اس کا معاملہ خدائے تعالیٰ سے ہے۔ (عرفانی ) مکتوب نمبر ۲۸ محبی اخویم نواب صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کچھ مضائقہ نہیں آں محب مالیر کوٹلہ سے مضمون مکمل کرنے کے بعد ارسال فرماویں۔ اگر دو ہفتہ تک تاخیر ہو جائے تو کیا حرج ہے اور علیحدہ پرچہ میں نے دیکھ لیا ہے نہایت عمدہ ہے۔ بہتر ہے کہ اس کو اس مضمون کے ساتھ شامل کر دیا جائے کل مع الخير على الصباح تشریف لے جاویں۔ اللہ تعالیٰ خیر و عافیت سے پہنچائے ۔ آمین ۔ والسلام ۴ جولائی ۱۸۹۸ء خاکسار مرزاغلام احمد عفی عنہ نوٹ از مرتب : خاکسار کو یہ اصل مکتوب نہیں ملا۔ ایک نقل سے نقل کیا ہے ۔ ☆☆☆