مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 225

مکتوبات احمد ۲۲۵ جلد دوم مکتوب نمبر ۲۷ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمۂ تعالیٰ ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ افسوس کہ مولوی صاحب اس قدر تکلیف کی حالت میں ہیں کہ اگر اور کوئی سبب بھی نہ ہوتا تب بھی اس لائق نہیں تھے کہ اس شدت گرمی میں سفر کر سکتے ۔ ہفتہ میں ایک مرتبہ سخت بیمار ہو جاتے ہیں۔ پیرانہ سالی کے عوارض ہیں اور مولوی صاحب کی بڑی لڑکی سخت بیمار ہے۔ کہتے ہیں اس کو بیماری سل ہو گئی ہے ۔ علامات سخت خطرناک ہیں ۔ نواسی بھی ابھی بیماری سے صحت یاب نہیں ہوئی ۔ ان وجوہ کی وجہ سے در حقیقت وہ سخت مجبور ہیں اور جو دو آدمی نکالے گئے تھے ۔ یعنی غلام محی الدین اور غلام محمد ۔ وہ کسی کی تمامی کی وجہ سے نہیں نکالے گئے بلکہ خود مجھ کو کئی قرائن سے معلوم ہو گیا تھا کہ ان کا قادیان میں رہنا خطر ناک ہے اور مجھے سرکاری مخبر نے خبر دے دی تھی اور نہایت بد اور گندے حالات بیان کئے اور وہ مستعد ہوا کہ میں ضلع میں رپورٹ کرتا ہوں ۔ کیونکہ اس کے یہ کام سپر د ہے اور چاروں طرف سے ثبوت مل گیا کہ ان لوگوں کے حالات خراب ہیں ۔ تب سخت ناچار ہو کر نرمی ، کے ساتھ ان کو رخصت کر دیا گیا ۔ لیکن باوجود اس قدر نرمی کے غلام محی الدین نے قادیان سے نکلتے ہی طرح طرح کے افتراء اور میرے پر بہتان لگانے شروع کر دیئے ۔ بٹالہ میں محمد حسین کے پاس گیا اور امرتسر میں غزنویوں کے گروہ میں گیا اور لاہور میں بد گوئی میں صد ہا لوگوں میں وعظ کیا۔ چنانچہ ہا ایک اشتہار زٹلی کا آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں جس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ شخص کس قسم کا آدمی ہے اور چونکہ سرکاری مخبر بھی ہماری جماعت کے حال لکھتے رہتے ہیں ۔ اس لئے مناسب نہ تھا کہ ایسا آدمی قادیان میں رکھا جاتا اور دوسرا آدمی اس کا دوست تھا ۔ والسلام خاکسار مرزاغلام احمد علی اللہ عنہ نوٹ:۔ اس خط پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے۔ مگر نفس واقعات مندرجہ خط سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مئی ۱۸۹۸ء کا مکتوب ہے۔ اس میں غلام محی الدین نام جس شخص کا ذکر ہے وہ