مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 205
مکتوبات احمد ۲۰۵ جلد دوم سچائی کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے سزائے موت سے بچ گیا ہے ۔ اور اس کی آزمائش یہ ہے کہ اب اس سے ان الفاظ میں اقرار لیا جائے تا اس کی اندرونی حالت ظاہر ہو یا اس پر عذاب نازل ہووے۔ میں نے اس غرض سے اشتہار دیا ہے کہ آتھم کو یہ پیغام پہنچا یا جاوے کہ اللہ جلشانہ کی طرف سے یہ خبر ملی ہے کہ تو نے حق کی طرف رجوع کیا ہے ۔ اور اگر وہ اس کا قائل ہو جائے تو ہمارا مد عا حاصل، ورنہ ایک ہزار روپیہ نقد بلا توقف اس کو دیا جائے کہ وہ قسم کھا جاوے کہ میں نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا۔ اور اگر وہ اس قسم کے بعد ایک برس کے بعد ( تک عرفانی ) ہلاک نہ ہو تو ہم ہر طرح سے کا ذب ہیں ۔ اور اگر وہ قسم نہ کھاوے تو وہ کا ذب ہے۔ آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں کہ اگر تجربہ سے اس نے مجھ کو کا ذب یقین کر لیا ہے اور وہ اپنے مذہب پر قائم ہے تو قسم کھانے میں اس کا کچھ بھی حرج نہیں ۔ لیکن اگر اس نے قسم نہ کھائی اور باوجود یکہ دوکلمہ کے لئے ہزار روپیہ اس کے حوالے کیا جاتا ہے۔ اگر وہ گریز کر گیا تو آپ کیا سمجھیں گے؟ اب وقت نزدیک ہے ۔ اشتہار آئے چاہتے ہیں۔ میں ہزار روپیہ کے لئے مترد دتھا کہ کس سے مانگو ۔ ایسا دیندار کون ہے جو بلا توقف بھیج دے گا ؟ آخر میں نے ایک شخص کی طرف لکھا ہے اگر اس نے دے دیا تو بہتر ہے ورنہ یہ دنیا کی نابکار جائیداد بیچ کر خود اس کے آگے جا کر رکھوں گا تا کامل فیصلہ ہو جائے اور جھوٹوں کا منہ سیاہ ہو جائے ۔ اور خدائے تعالیٰ نے کئی دفعہ میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اس جماعت پر ایک ابتلا آنے والا ہے ۔ تا اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کون سچا ہے اور کون کچا ہے اور اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میرے دل میں اپنی جماعت کا انہیں کے فائدہ کے لئے جوش مارتا ہے۔ ورنہ اگر کوئی میرے ساتھ نہ ہو تو مجھے تنہائی میں لذت ہے۔ بے شک فتح ہو گی ، اگر ہزار ابتلا درمیان ہو تو آخر ہمیں فتح ہو گی ۔ اب ابتلاؤں کی نظیر آپ مانگتے ہیں۔ ان کی نظیر میں بہت ہیں ۔ آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے بادشاہ ہونے کا جو وعدہ کیا اور وہ ان کی زندگی میں پورا نہ ہوا ۔ تو ستر آدمی مرتد ہو گئے ۔ حدیبیہ کے قصہ میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ کئی بچے آدمی مرتد ہو گئے ، وجہ یہ تھی کہ اس پیشگوئی کی کفار مکہ کو بر ہو گئی تھی اس لئے انہوں نے شہر کے اندر داخل نہ ہونے دیا اور صحابہ پانچ چھ ہزار سے کم نہیں تھے۔ یہ امر کس قدر معرکہ کا امر تھا مگر خدائے تعالیٰ نے صادقوں کو بچایا۔ مجھے اور میرے خاص دوستوں کو آپ کے اس خط سے اس قد رافسوس ہوا کہ اندازہ سے زیادہ ہے ۔ یہ کلمہ آپ کا کہ مجھے ہلاک کیا، کس قد راس ہے۔ یہکلمہ آ کا کہ مجھے ہلاک کیا، کس قدر راس