مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 190
حضرت عزت میں اس کی عزت کیا۔مجھے درحقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کو سنا اور اس میں غور کی تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہوگئے۔میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اوراپنے نفس کے ترک اور اخذ کے لئے مجھے حَکَم بناتا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اوراطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جِلد سے باہر آگیا ہے۔مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اورعزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پا سکتے۔جو اُن راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چُھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا اورجو اللہ جلّشانہٗ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہو ا بندہ تھا۔اس کی خوشبو ان کو آگئی۔انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ و جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کر ے۔باکمال وہ آدمی ہے جو گدائوں کے پیرایہ میں اس کوپاوے اور شناخت کر لیوے۔مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زیرکی کسی کو دوں۔ایک ہی ہے جو دیتا ہے۔وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے۔انہیں باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں۔اور یہی باتیں ان کے لئے جن کے دلوں میں کجی ہے زیادہ تر کجی کا موجب ہو جاتی ہیں۔اب میں جانتا ہوں کہ نشانوں کے بارے میںمَیں بہت کچھ لکھ چکا ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ بات صحیح اور راست ہے کہ اب تک تین ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ وہ امور میرے لئے خدا تعالیٰ سے صادر ہوئے ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہیں اور آئندہ ان کا دروازہ بند نہیں۔ان نشانوں کے لئے ادنیٰ ادنیٰ میعادوں کا ذکر کرنا یہ ادب سے دُور ہے۔خدا تعالیٰ غنی، بے نیاز ہے۔جب مکّہ کے کافر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے کہ نشان کب ظاہر ہوں گے تو خدا تعالیٰ نے کبھی یہ جواب نہ دیا کہ فلاں تاریخ نشان ظاہر ہوں گے۔کیونکہ یہ سوال ہی بے ادبی سے پُر تھا اور گستاخی سے بھرا ہوا تھا۔انسان اس نابکار اور بے بنیاد دنیا کے لئے سالہا سال انتظاروں میں وقت خرچ کردیتا ہے۔ایک امتحان دینے میں کئی برسوں سے تیاری کرتا ہے وہ عمارتیں شروع کرا دیتا ہے جوبرسوں میں ختم ہوں۔وہ پودے باغ میں لگاتا ہے جن کا پھل کھانے کے لئے ایک دُور زمانہ تک انتظار کرنا ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ کی راہ میں کیوں جلدی کرتا ہے۔اس کا باعث بجز اس کے اور