مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 180
ہونے کے لئے بجز اس احقر کے اور کس نے دعویٰ کیا ہے اور کس نے منجانب اللہ آنے کی خبردی ہے اور ملہم ہونے اور مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ تو اس کے جواب میں وہ بالکل خاموش ہیں اور کسی شخص کو پیش نہیں کر سکتے جس نے ایسا دعویٰ کیا ہو۔اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ملہم من اللہ اور مجدّد من اللہ کے دعویٰ سے کچھ بڑا نہیں ہے۔صاف ظاہر ہے کہ جس کو یہ رُتبہ حاصل ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہمکلا م ہو۔اس کا نام منجانب اللہ خوا ہ مثیل مسیح ہو اور خوا ہ مثیلِ موسیٰ ہو، یہ تمام نام اس کے حق میں جائز ہیں۔مثیل ہونے میں کوئی اصلی فضیلت نہیں۔اصلی اور حقیقی فضیلت ملہم من اللّہ اور کلیم اللہ ہونے میںہے۔پھر جس شخص کو مکالمہ الہٰیہ کی فضیلت حاصل ہوگئی اور کسی خدمت دین کے لئے مامور من اللہ ہوگیا تواللہ جلّشانہ‘ وقت کے مناسب حال اس کا کوئی نام رکھ سکتا ہے۔یہ نام رکھنا تو کوئی بڑی بات نہیں۔اسلام میں موسیٰ۔عیسیٰ۔داؤد۔سلیمان۔یعقوب وغیرہ بہت سے نام نبیوں کے نام پر لوگ رکھ لیتے ہیں۔اس تفاول کی نیت سے کہ ان کے اخلاق انہیں حاصل ہوجائیں پھر اگر خدا تعالیٰ کسی کو اپنے مکالمہ کا شرف دے کر کسی موجودہ مصلحت کے موافق اس کا کوئی نام بھی رکھ دے تو اس میں کیا استبعادہے؟ اور اس زمانہ کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدّد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنا اور ان کے فلسفہ کو جو مخالفِ قرآن ہے۔دلائل قویہ کے ساتھ توڑنا اور ان پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں اسلام کیلئے جو بغیر تائید الٰہی دور نہیں ہوسکتی، عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں جن کے دورکرنے کے لئے ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی آوے۔اور جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا ہے۔حضرت مسیح کی روح ان افتراؤں کی وجہ سے جو اُن پر اس زمانہ میں کئے گئے، اپنے مثالی نزول کے لئے شدت جوش میں تھی۔اور خدا تعالیٰ سے درخواست کرتی تھی کہ اس وقت مثالی طور پر اس کا نزول ہو۔سو خدائے تعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو دنیا میں بھیجا تا وہ وعدہ پورا ہو جو پہلے سے کیا گیا تھا۔یہ ایک سِرّاسرارِ الہٰیہ میں سے ہے کہ جب کسی رسول یا نبی کی شریعت اس کے فوت ہونے کے بعد بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصل تعلیموں اور ہدایتوں کو بدلا کر بیہودہ اور بیجا باتیں اس کی طرف