مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 170

مکتوب نمبر۸ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی وعزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک ہفتہ سے بلکہ عشرہ سے زیادہ گزر گیا کہ آں محب کا محبت نامہ پہنچا تھا۔چونکہ اس میں امور مستفسرہ بہت تھے اور مجھے بباعث تالیف کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام بغایت درجہ کمی فرصت تھی۔کیونکہ ہر روز مضمون تیار کر کے دیاجاتا ہے۔اس لئے میں جواب لکھنے سے معذور رہا اور آپ کی طرف سے تقاضا بھی نہیں تھا۔آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ آپ ایک خالص محب ہیں اور آپ کا استفسار سراسر نیک ارادہ اور نیک نیت پر مبنی ہے اس لئے بعض امور سے آپ کو آگا ہ کرنا اور آپ کے لئے جو بہتر ہے اُس سے اطلاع دینا ایک امر ضروری ہے۔لہٰذا چند سطور آپ کی آگاہی کے لئے ذیل میں لکھتا ہوں۔یہ سچ ہے کہ جب سے اس عاجز نے مسیح موعودہونے کادعویٰ بامر اللہ تعالیٰ کیا ہے۔تب سے وہ لوگ جو اپنے اندر قوتِ فیصلہ نہیں رکھتے عجب تذبذب اور کشمکش میں پڑ گئے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ قیل و قال سے فیصلہ نہیں ہو سکتا مباہلہ کے لیے اب طیار ہونا چاہیے اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی نشان بھی دکھلانا چاہئے۔(۱) مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خود بخود اللہ جلّشانہٗ نے اجازت دے دی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے آپ کے ارادہ کا توارد ہے کہ آپ کی طبیعت میں یہ جنبش پید ا ہوئی۔مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اب اجازت دینے میں حکمت یہ ہے کہ اوّل حال میں صرف اس لئے مباہلہ ناجائز تھا کہ ابھی مخالفین کو بخوبی سمجھایا نہیں گیا تھا اور وہ اصل حقیقت سے سراسر ناواقف تھے اور تکفیر پر بھی ان کا وہ جوش نہ تھا جو بعد ا س کے ہوا۔لیکن اب تالیف آئینہ کمالاتِ اسلام کے بعد تفہیم اپنے کمال کو پہنچ گئی اور اب اس کتاب کے دیکھنے سے ایک ادنیٰ استعداد کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مخالف لوگ اپنی رائے میں سراسر خطا پر ہیں۔اس لئے مجھے حکم ہو اہے کہ میں مباہلہ کی درخواست کو