مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 166
تھی۔اس کے جواب میں آپ نے یہ مکتوب لکھا۔ا س مکتوب سے آپ کی سیرۃ پر بھی ایک خاص روشنی پڑتی ہے اور آپ کے دعا وی پر بھی۔جب مباہلہ کے لئے آپ کھڑے ہونے کی آمادگی ظاہر کرتے ہیں تو صاف فرماتے ہیں کہ پہلے یہ عاجز انبیاء کے طریق پر شرط نصیحت بجا لاوے۔اپنے سلسلہ کو ہمیشہ منہاج نبوت پر پیش کیا ہے۔دوسرے آپ استکشافِ حق کے لئے کسی سوال اور جرح کوبُرا نہیں مناتے۔بلکہ سائل کو شوق دلاتے ہیں کہ وہ دریافت کرے۔اس لئے کہ اسے آپ سعیدوں کی نشانی قرار دیتے ہیں۔(عرفانی)