مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 165
کہ ایک مجلس علماء کی جمع ہو اور ان میں وہ لوگ بھی حاضرہوں جو مباہلہ کی درخواست کرتے ہیں۔پہلے یہ عاجز انبیاء کے طریق پر شرط نصیحت بجا لائے اور صاف صاف بیان سے اپنا حق پر ہونا ظاہر کرے جب اس وعظ سے فراغت ہو جائے تو درخواست کنندہ مباہلہ اُٹھ کر یہ کہے کہ وعظ میں نے سن لیا۔مگر میں اب بھی یقینا جانتا ہوں کہ یہ شخص کاذب اور مفتری ہے اور اس یقین میں شک اور شبہ کو راہ نہیں بلکہ رؤیت کی طرح قطعی ہے۔ایسا ہی مجھے اس بات پر بھی یقین ہے کہ جو کچھ میںنے سمجھا ہے وہ ایسا شک و شبہ سے منزّہ ہے کہ جیسے رؤیت۔تب اس کے بعد مباہلہ شروع ہو۔مباہلہ سے پہلے کسی قدر مناظرہ ضروری ہوتا ہے تا حجت پوری ہو جائے۔کبھی سنا نہیں گیاکہ کسی نبی نے ابھی تبلیغ نہیں کی اور مباہلہ پہلے ہی شروع ہو گیا۔غرض اس عاجز کومباہلہ سے ہرگز انکار نہیں۔مگر اسی طریق سے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو پسند کیا ہے۔مباہلہ کی بناء یقین پر ہوتی ہے نہ اجتہادی خطا و صواب پر جب مباہلہ سے غرض تائید دین ہے تو کیونکر پہلا قدم ہی دین کے مخالف رکھا جائے۔یہ عاجز انشاء اللہ ایک ہفتہ تک ازالہ اوہام کے اوراق مطبوعہ آپ کے لئے طلب کرے گا۔مگر شرط یہ ہے کہ ابھی آپ کسی پر ان کو ظاہر نہ کریں۔اس کامضمون اب تک امانت رہے۔اگرچہ بعض مقاصد عالیہ ابھی تک طبع نہیں ہوئے اور یک جائی طور پر دیکھنا بہتر ہوتا ہے۔تا خدانخواستہ قبل ازوقت طبیعت سیر نہ ہو جائے۔مگر آپ کے اصرار سے آپ کے لئے طلب کروں گا۔چونکہ میرا نوکر جس کے اہتمام اور حفاظت میں یہ کاغذات ہیں۔اس جگہ سے تین چار روز تک امرتسر جائے گا۔اس لئے ہفتہ یا عشرہ تک یہ کاغذات آپ کی خدمت میں پہنچیں گے۔آپ کے لئے ملاقات کرنا ضروری ہے۔ورنہ تحریر کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً استکشاف کرنا چاہئے۔والسلام ٭ خاکسار غلام احمد نوٹ:۔اس خط پر تاریخ نہیں ہے۔لیکن ازالہ اوہام کی طبع کا چونکہ ذکر ہے۔اس سے پایا جاتا ہے کہ ۱۸۹۱ء کا یہ مکتوب ہے۔نواب صاحب قبلہ نے آپ کو مباہلہ کی درخواست منظور کرنے کے متعلق تحریک کی تھی جو عبدالحق غزنوی وغیرہ کی طرف سے ہوئی