مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 164
مکتوبات احمد ۱۶۴ جلد دوم نے کسی اجتہادی مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا تھا بلکہ اس عاجز کی دیانت اور صدق پر ایک نہیں کیا تہمت لگائی تھی جس کی اپنے ایک دوست کی رؤیت پر بنا رکھی تھی۔ لیکن اگر بنا صرف اجتہاد پر ہوا اور کی پر بنارکھی ، اجتہادی طو پر کوئی شخص کسی مومن کو کافر کہے یا ملحد نام رکھے تو یہ کوئی تہمت نہیں ۔ بلکہ جہاں تک اس کی سمجھ اور اس کا علم تھا اس کے موافق اس نے فتوی دیا ہے۔ غرض مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے ۔ جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بنا رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی وغیرہ قرار دیتے ہیں ۔ پس ما نحن فيه میں مباہلہ اس وقت جائز ہوگا کہ جب فریق مخالف یہ اشتہار دیں کہ ہم اس مدعی کو اپنی نظر میں اس قسم کا خطی نہیں سمجھتے کہ جیسے اسلام کے فرقوں میں مصیب بھی ہوتے ہیں اور مخطی بھی ۔ اور بعض فرقے بعض سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ ہم یقین گلی سے اس شخص کو مفتری جانتے ہیں اور ہم اس بات کے محتاج نہیں کہ یہ کہیں کہ امر متنازعہ فیہ کی اصل حقیقت خدا تعالیٰ جانتا ہے۔ بلکہ یقیناً اس پیشگوئی کی سب اصل حقیقت ہمیں معلوم ہو چکی ہے ۔ اگر یہ لوگ اس قدر اقرار کر دیں تو پھر کچھ ضرورت نہیں کہ علماء کا مشورہ اس میں لیا جائے ۔ وہ مشورہ نقصان علم کی وجہ سے طلب نہیں کیا گیا صرف اتمام حجت کی وجہ سے طلب کیا گیا ہے۔ سواگر یہ مدعیان ایسا اقرار کر دیں کہ جو اوپر بیان ہو چکا ہے تو پھر کچھ حاجت نہیں کہ علماء سے فتوئی پوچھا جائے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جو شخص آپ ہی یقین نہیں کرتا وہ مباہلہ کس بنا پر کرنا چاہتا ہے؟ مباہل کا منصب یہ ہے کہ اپنے دعوے میں یقین ظاہر کرے، صرف ظن اور شبہ پر بنا نہ ہو ۔ مباہل کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ جو کچھ اس امر کے بارے میں خدا تعالیٰ کو معلوم ہے وہی مجھ کو یقینی طور پر معلوم ہو گیا ہے ۔ تب مباہلہ کی بنیاد پیدا ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی بات ہے کہ مباہلہ سے پہلے شخص مبلغ کا وعظ بھی سن لینا ضروری امر ہے۔ یعنی جو شخص خدائے تعالیٰ سے مامور ہو کر آیا ہے۔ اسے لازم ہے کہ اوّل دلائل بینہ سے اشخاص منکرین کو اپنے دعوے کی صداقت سمجھا دے اور اپنے صدق کی علامتیں ان پر ظاہر کرے۔ پھر اگر اس کے بیانات کوسن کر اشخاص منکرین باز نہ آئیں اور کہیں کہ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ تو مفتری ہے تو آخر الحیل مباہلہ ہے۔ یہ نہیں کہ ابھی نہ کچھ سمجھا نہ بوجھا نہ کچھ سنا، پہلے مباہلہ ہی لے بیٹھے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مباہلہ کی درخواست کی تو وہ اس وقت کی تھی کہ جب کئی برس قرآن شریف نازل ہو کر کامل طور پر تبلیغ ہو چکی تھی ۔ مگر یہ عاجز کئی برس نہیں چاہتا۔ صرف یہ چاہتا ہے