مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 164

نے کسی اجتہادی مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا تھا بلکہ اس عاجز کی دیانت اور صدق پر ایک تہمت لگائی تھی جس کی اپنے ایک دوست کی رؤیت پر بنا رکھی تھی۔لیکن اگر بنا صرف اجتہاد پر ہو اور اجتہادی طو پر کوئی شخص کسی مومن کو کافر کہے یا ملحد نام رکھے تو یہ کوئی تہمت نہیں۔بلکہ جہاں تک اس کی سمجھ اور اس کا علم تھا اس کے موافق اس نے فتویٰ دیا ہے۔غرض مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے۔جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بنا رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی وغیرہ قرار دیتے ہیں۔پس ما نحن فیہ میں مباہلہ اس وقت جائز ہوگا کہ جب فریق مخالف یہ اشتہار دیں کہ ہم اس مدعی کو اپنی نظر میں اس قسم کا مخطی نہیں سمجھتے کہ جیسے اسلام کے فرقوں میں مصیب بھی ہوتے ہیں اور مُخطیبھی۔اور بعض فرقے بعض سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ ہم یقین کلّی سے اس شخص کو مفتری جانتے ہیں اور ہم اس بات کے محتاج نہیں کہ یہ کہیں کہ امر متنازعہ فیہ کی اصل حقیقت خدا تعالیٰ جانتا ہے۔بلکہ یقینا اس پیشگوئی کی سب اصل حقیقت ہمیں معلوم ہوچکی ہے۔اگر یہ لوگ اس قدر اقرار کردیں توپھرکچھ ضرورت نہیں کہ علماء کا مشورہ اس میں لیا جائے۔وہ مشورہ نقصان علم کی وجہ سے طلب نہیںکیا گیا صرف اتمام حجت کی وجہ سے طلب کیا گیاہے۔سو اگر یہ مدعیان ایسا اقرار کردیں کہ جو اوپر بیان ہو چکا ہے تو پھر کچھ حاجت نہیں کہ علماء سے فتویٰ پوچھا جائے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جوشخص آپ ہی یقین نہیں کرتا وہ مباہلہ کس بنا پر کرناچاہتا ہے؟ مباہل کا منصب یہ ہے کہ اپنے دعوے میں یقین ظاہر کرے، صرف ظن اور شبہ پر بنا نہ ہو۔مباہل کو یہ کہنا پڑتا ہے کہ جو کچھ اس امر کے بارے میں خدا تعالیٰ کو معلوم ہے وہی مجھ کو یقینی طور پر معلوم ہوگیا ہے۔تب مباہلہ کی بنیاد پیدا ہوتی ہے۔پھر یہ بھی بات ہے کہ مباہلہ سے پہلے شخص مبلّغ کا وعظ بھی سن لینا ضروری امر ہے۔یعنی جو شخص خدائے تعالیٰ سے مامور ہو کرآیا ہے۔اسے لازم ہے کہ اوّل دلائل بیّنہ سے اشخاص منکرین کو اپنے دعوٰے کی صداقت سمجھا دے اور اپنے صدق کی علامتیں ان پر ظاہر کرے۔پھر اگر اس کے بیانات کو سن کراشخاص منکرین باز نہ آویں اور کہیں کہ ہم یقینا جانتے ہیںکہ تو مفتری ہے تو آخر الحیل مباہلہ ہے۔یہ نہیں کہ ابھی نہ کچھ سمجھا نہ بوجھا نہ کچھ سنا، پہلے مباہلہ ہی لے بیٹھے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مباہلہ کی درخواست کی تو وہ اس وقت کی تھی کہ جب کئی برس قرآن شریف نازل ہو کرکامل طور پر تبلیغ ہوچکی تھی۔مگر یہ عاجز کئی برس نہیں چاہتا۔صرف یہ چاہتا ہے