مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 163

مکتوبات احمد ۱۶۳ جلد دوم استیصال تجویز کرنا پڑتا ہے۔ وہ خدائے تعالیٰ کے نزدیک جو حامی اسلام اور مسلمین ہے، کیوں کر جائز ہوگا ؟ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر اس کے نزدیک جزئی اختلافات کی وجہ سے مباہلہ جائز ہوتا تو وہ ہمیں یہ تعلیم نہ دیتا کہ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا یعنی اے خدا ہماری خطا معاف کر اور ہمارے بھائیوں کی خطا بھی عفوفر ما ۔ بلکہ مصیب اور مخطی کا تصفیہ مباہلہ پر چھوڑتا اور ہمیں ہر یک جزئی اختلاف کی وجہ سے مباہلہ کی رغبت دیتا لیکن ہرگز ایسا نہیں ۔ اگر اس اُمت کے باہمی اختلافات کا عذاب سے فیصلہ ہونا ضروری ہے تو پھر تمام مسلمانوں کے ہلاک کرنے کے لئے دشمنوں کی نظر میں اس سے بہتر کوئی حکمت نہیں ہوگی کہ ان کا تمام جزئیات مختلفہ میں مباہلہ کرایا جائے تا ایک ہی مرتبہ سب مسلمانوں پر قیامت آجائے ۔ کیونکہ کوئی فرقہ کسی خطا کی وجہ سے ہلاک ہو جائے گا اور کوئی فرقہ کسی خطا کے سبب سے مورد عذاب و ہلاکت ہوگا ۔ وجہ یہ کہ جز کی خطا سے تو کوئی فرقہ بھی خالی نہیں ۔ اب میں یہ بھی بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کسی صورت میں مباہلہ جائز ہے۔سو واضح رہے کہ صرف دو صورت میں مباہلہ جائز ہے ۔ (۱) اوّل اس کافر کے ساتھ جو یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ مجھے یقیناً معلوم ہے کہ اسلام حق پر نہیں اور جو کچھ غیر اللہ کی نسبت خدائی کی صفتیں میں مانتا ہوں وہ یقینی امر ہے ۔ (۲) دوم اس ظالم کے ساتھ جو ایک بے جا تہمت کسی پر لگا کر اس کو ذلیل کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً ایک مستورہ کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے ۔ کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے ۔ یا مثلاً ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خوار ہے کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو شراب پیتے دیکھا ہے۔ سواس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں بلکہ ایک شخص اپنے یقین اور رؤیت پر بنا رکھ کر ایک مومن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔ جیسے مولوی اسمعیل صاحب نے کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ میرے ایک دوست کی چشم دید بات ہے کہ مرزا غلام احمد یعنی یہ عاجز پوشیدہ طور پر آلات نجوم اپنے پاس رکھتا ہے اور انہیں کے ذریعہ سے کچھ کچھ آئندہ کی خبریں معلوم کر کے لوگوں کو کہہ دیتا ہے کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ سومولوی اسمعیل صاحب ا الحشر : اا