مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 161
مکتوبات احمد ۱۶۱ جلد دوم مکتوب نمبر ۴ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مشفقی عزیزی محبی نواب صاحب سردار محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا ۔ الحمد لله والمنة کہ خدائے تعالیٰ نے آپ کو صحت بخشی ۔ اللہ جل شانہ آپ کو خوش رکھے اور عمر اور راحت اور مقاصد دلی میں برکت اور کامیابی بخشے ۔ اگر چہ حسب تحریر مرزا خدا بخش صاحب آپ کے مقاصد میں سخت پیچیدگی ہے مگر ایک دعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجود ہیں اور ایک دفعہ گردن اونچی ہو گئی اور جیسے اقبال اور عزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ اُبھارتا ہے ۔ ویسی ہی صورت پیدا ہوئی۔ میں حیران ہوں کہ یہ بشارت کس وقت اور کس قسم کے عروج سے متعلق ہے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ظہور کا زمانہ کیا ہے ۔ مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ کسی وقت میں کسی قسم کا اقبال اور کامیابی اور ترقی عزت اللہ جلشانہ کی طرف سے آپ کے لئے مقرر ہے۔ اگر اس کا زمانہ نزدیک ہو یا دور ہو سو میں آپ کے پیش آمدہ ملال سے گو پہلے تمکین تھا مگر آج خوش ہوں ۔ کیونکہ آپ کے مال کار کی بہتری کشفی طور پر معلوم ہوگئی ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ میں پہلے خط میں لکھ چکا ہوں کہ ایک آسمانی فیصلہ کے لئے میں مامور ہوں اور اس کے ظاہری انتظام کے درست کرنے کے لئے میں نے ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء کو ایک جلسہ تجویز کیا ہے۔ متفرق مقامات سے اکثر مخلص جمع ہوں گے۔ مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ آں محب بوجہ ضعف و نقاہت ایسے متبرک جلسہ میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ اس حالت میں مناسب ہے کہ آل محبّ اگر حرج کا ر نہ ہو تو مرزا خدا بخش صاحب کو روانہ کر دیں۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام ۲۲ دسمبر ۱۸۹۱ء خاکسار غلام احمد از قادیان