مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 159

خدائے تعالیٰ کے حضور میں دعا کرو۔کہ اے ربُّ العالمین ! تیرے احسان کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تونہایت رحیم وکریم ہے اور تیرے بے نہایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جائوں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا، جن سے تو راضی ہو جاوے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلائوں سے مجھے بچاکہ ہر ایک فضل وکرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔آپ کی اس بیعت کی کسی کو خبر نہیں دی گئی اور بغیر آ پ کی اجازت کے نہیں دی جائے گی۔لیکن مناسب ہے کہ اس اخفا کو صرف اسی وقت تک رکھیں کہ جب تک کوئی اشد مصلحت درپیش ہو۔کیونکہ اخفا میں ایک قسم کا ضعف ہے اور نیز اظہار سے گویا فعلاً نصیحت للخلق ہے۔آپ کے اظہار سے ایک گروہ کو فائدہ دین پہنچتا ہے ا ور رغبت الی الخیر پیدا ہو تی ہے۔خدائے تعالیٰ ہر ایک کام میں مدد گار ہو کہ بغیر اس کی مدد کے انسانی طاقتیں ہیچ ہیں۔والسلام ٭ خاکسار مرزا غلام احمد نوٹ:۔اس خط کی تاریخ تو معلوم نہیں۔لیکن واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے نواب صاحب کو بیعت کی تحریک فرمائی تھی۔مگر ا س وقت وہ اس کے لئے تیار نہ تھے اور اپنی جگہ بعض شکوک ایسے رکھے تھے جو مزید اطمینان کے لئے رفع کرنے ضروری تھے۔جب وہ شکوک رفع ہوئے تو انہوں نے تأمّل نہیں کیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں نواب صاحب کے ایک خط کا اقتباس دیا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ ’’ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا۔لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤیّد نہیں ہیں۔بلکہ مخالفین اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ