مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 152

بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ ہم قرآن شریف سے اسی قدر محبت اور عشق پیدا کریں گے جس قدر ہمیں ان تینوں بزرگواروں کے امین ہونے پر ایمان ہو گا اگر ہم ایک ذرا بھی کمالات ایمانیہ میں ان کو کم سمجھیں گے تو وہی کمی قرآن شریف کی عظمت کے بارے میں ہمارے دلوں میں پید اہو جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ جس پیار اور محبت سے سنت جماعت قرآن شریف کو دیکھتے ہیں اور اس کو بصد محبت حفظ کر لیتے ہیں یہ بات شیعہ لوگوں میں ہر گز نہیں پائی جاتی۔مثلاً مجھے تخمیناً معلوم ہوا ہے کہ ہمارے ملک پنجاب میں ایک لاکھ سے زیادہ سنت جماعت میں سے قرآن شریف کاحافظ ہو گا مگر کیاکوئی اس بات کا ثبوت دے سکتا ہے کہ اسی ملک میں شیعہ لوگوں میں سے دس پندرہ بھی حافظ ہیں؟ بلکہ میرے خیال میں ایک حافظ بھی بمشکل ہے اس کا کیا سبب ہے؟ وہی ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم۔پس اس سے معلوم ہوا کہ ان بزرگواروں کو بنظرِ تخفیف دیکھنے میں سرا سر ایمان کا گھاٹا ہے۔والعاقل تکفیہ الاشارۃ۔پانچویں بیعت کے لئے یہ ضروری عقیدہ ہے کہ شرک سے بکلّی پرہیز کرے اگر یہ تمام عقائد کسی شیعہ میں پائے جاویں تو بلاشبہ اس کی حالت عمدہ ہے اور وہ اس لائق ہے کہ بیعت میں داخل ہو۔(۳)بیعت کے مقاصد میں سے ایک بھاری مقصد یہ ہے کہ انسان راہ راست پر آوے اور خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈر کر ہر ایک طریق نا انصافی کو چھوڑ دیوے جو شخص عمداًنا انصافی پر جما رہنا چاہتا ہے وہ دراصل حقیقت بیعت سے غافل ہے ہم اس مسافر خانہ میں تھوڑے عرصہ کے لئے آئے ہیں اور اس غرض سے بھیجے گئے ہیں کہ اپنے اخلاق اور عقائد اور اعمال کو درست کر کے اور حسب مرضیاتِ الٰہی اپنے نفس کو بنا کر اس مولیٰ کریم کی رضا مندی حاصل کریں۔سو ہر ایک بات میں یہ دیکھ لینا چاہئے کہ کیا ہمارے قول اور فعل ظلم و زیادتی سے خالی ہیں؟ یاہم انصاف کا خون کر رہے ہیں جن بزرگ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ضعف و نا توانی اور تنہائی اورغربت کے ایام میں آں جناب کی رفاقت اختیار کی۔ا س رفاقت اور اس ایمان کے پاس کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھائیں، اپنی ریاستوں ملکیتوں سے بے دخل کئے گئے وطن سے نکالے گئے اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے صد ہا مرتبہ اپنے تئیں معرضِ ہلاکت میں ڈالا۔ان کی شان کو جیسا کہ چاہئے، نہ سمجھنا سخت درجہ کی ناانصافی ہے درحقیقت اگر ہم انصاف سے دیکھیں اور عدالت کی نگاہ سے نظر کریں تو ہمیں اقرار