مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 151

تمام ملکوں میں رواج دیا اور اسلام کی صداقت پر اپنے خون سے مُہریں کر کے اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔بلاشبہ ان کی اس فضیلت کو بعد میں آنے والے نہیں پا سکتے وَذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ مگر اس کے سوا ہر ایک کمال کے حاصل کرنے کے لئے در و دروازے کھلے ہیں خدا تعالیٰ کے مقبول اور نہایت اعلیٰ درجہ کے پیارے بندے اور امام الوقت اور خلیفۃ اللہ فی الارض اب بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پہلے ہوئے تھے اور اب بھی خد اتعالیٰ کے انعام و اکرام کی وہ راہیں کھلی ہیں جو پہلے کھلی تھیں۔کمالاتِ نبوت و رسالت بھی ظلّی طور پرحاصل ہو سکتے ہیں جس قدر سالک کی استعداد ہو گی ضرور پَر َتو نور کا پڑے گا زندہ اسلام اسی عقیدہ کا نام ہے مگر جو لوگ امامت و خلافت و صدیقیت کو پہلے اماموں پر ختم کر چکے ہیں ان کے ہاتھ میں اب مُردہ اسلام ہے یا یوں کہو کہ اسلام کی بے جان تصویر ان کے ہاتھ میں ہے یاد رکھنا چاہئے کہ جو مذہب آئندہ کمالات کے دروازے بند کرتا ہے۔وہ مذہب انسانی ترقی کا دشمن ہے۔قرآن شریف کی رو سے انسان کی بھاری دعا یہی ہے کہ وہ روحانی ترقیات کا خواہاں ہو غور سے پڑھنا چاہئے ا س آیت کو ۔دوسرے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ مجرّد کسی قسم کے رشتہ سے خواہ کسی رسول سے رشتہ ہو، کوئی فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ فقط رشتہ کی فضیلت پر ناز کرنا نامَردوں کا کام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ذوالقُربٰیمیں سے ہر ایک شخص جو قابل تعریف ہے وہ رشتہ کے لحاظ سے ہر گز نہیں وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی ۔۱؎ تیسرے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ قرآن شریف اب تک ہر ایک قسم کے تصرّف سے بکلّی محفوظ ہے اور کوئی ایسا قرآن نہیں جو کوئی شخص اس کو غار میں لے کر اب تک چھپا بیٹھا ہے یہ ان لوگوں کا بہتان ہے جن کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں۔چوتھے یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنھما اگر دین میں سچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لئے مشکل تھا جو قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی منجانب اللہ بتا سکتے۔