مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 134
نہایت خوشی کی بات ہے کہ مدت کے بعد آنمکرم کی ملاقات سے فرحت حاصل ہو اور ان کا مطلب بھی پورا ہو جائے اور ہمارا بھی۔والسلام ۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء خاکسار غلام احمد از لدھیانہ مکتوب نمبر۹۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محمد عرب کا خط آیا تھا۔آپ کی خدمت میں ارسال ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حسبِ استطاعت و کمی بیشی وقت جو مل سکے ان کو دے دیں اور اگر کچھ کم ہو تو ملاطفت سے استمالت طبع فرماویں اور اس عاجز کی طبیعت آج بہت علیل ہو رہی ہے۔ہاتھ پاؤں بھاری اور زبان بھی بھاری ہو رہی ہے۔مرض کے غلبہ سے نہایت لاچاری ہے۔مجھ کو ایک مرتبہ آنمکرم نے کسی قدر مشک دیا تھا وہ نہایت خالص تھا اور مجھ کو بہت فائدہ اس سے ہوا تھا۔اب میں نے کچھ عرصہ ہوا لاہور سے مشک منگوائی تھی اور استعمال بھی کی مگر بہت کم فائدہ ہوا۔بازاری چیزیں مغشوش ہوتی ہیں۔خاص کر مشک۔یہ تو مغشوش ہونے سے خالی نہیں ہوتی۔چونکہ میری طبیعت گری جاتی ہے اور ایک سخت کام کی محنت سر پر ہے اس لئے تکلیف دیتا ہوں کہ ایک خاص توجہ اس طرف فرماویں اور مشک کو ضرور دستیاب کریں بشرطیکہ وہ بازاری نہ ہو کیونکہ بازاری کا تو چند دفعہ تجربہ ہوچکا ہے۔اگرچہ مشک دو ماشہ یا تین ماشہ ہو۔وہ بالفعل کفایت کرے گا۔مگر عمدہ ہو۔اگر اصلی نافہ جو مصنوعی نہ ہو، مل جائے تو نہایت خوب ہے مگر جلد ہو۔کتاب چھپ رہی ہے شائد تین جز کے قریب چھپ گئی ہے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار ۲۴؍ اگست ۱۸۹۲ء غلام احمد از قادیان