مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 134

مکتوبات احمد ۱۳۴ جلد دوم نہایت خوشی کی بات ہے کہ مدت کے بعد آئمکرم کی ملاقات سے فرحت حاصل ہو اور ان کا مطلب بھی پورا ہو جائے اور ہمارا بھی ۔ والسلام ۔ ۷ را پریل ۱۸۹۲ء خاکسار غلام احمد از لدھیانہ مکتوب نمبر ۹۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ شیخ محمد عرب کا خط آیا تھا ۔ آپ کی خدمت میں ارسال ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حسب استطاعت و کمی بیشی وقت جو مل سکے ان کو دے دیں اور اگر کچھ کم ہو تو ملاطفت سے استعمالت طبع فرماویں اور اس عاجز کی طبیعت آج بہت علیل ہو رہی ہے۔ ہاتھ پاؤں بھاری اور زبان بھی بھاری ہو رہی ہے۔ مرض کے غلبہ سے نہایت لا چاری ہے ۔ مجھ کو ایک مرتبہ آئمکرم نے کسی قدر مشک دیا تھا وہ نہایت خالص تھا اور مجھ کو بہت فائدہ اس سے ہوا تھا۔ اب میں نے کچھ عرصہ ہوالا ہور سے مشک منگوائی تھی اور استعمال بھی کی مگر بہت کم فائدہ ہوا ۔ بازاری چیزیں مغشوش ہوتی ہیں ۔ خاص کر مشک ۔ یہ تو مغشوش ہونے سے خالی نہیں ہوتی ۔ چونکہ میری طبیعت گری جاتی ہے اور ایک سخت کام کی محنت سر پر ہے اس لئے تکلیف دیتا ہوں کہ ایک خاص توجہ اس طرف فرماویں اور مشک کو ضرور دستیاب کریں بشرطیکہ وہ بازاری نہ ہو کیونکہ بازاری کا تو چند دفعہ تجربہ ہو چکا ہے ۔ اگر چہ مشک دو ماشہ یا تین ماشہ ہو ۔ وہ بالفعل کفایت کرے گا ۔ مگر عمدہ ہو۔ اگر اصلی نافہ جو مصنوعی نہ ہو، ہل جائے تو نہایت خوب ہے مگر جلد ہو ۔ کتاب چھپ رہی ہے شائد تین جز کے قریب چھپ گئی ہے۔ زیادہ خیریت ہے۔ ۲۴ را گست ۱۸۹۲ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان