مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 133

مکتوب نمبر۹۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل مفصل حال اپنی علالت طبع کا لکھ چکا ہوں۔رات قریباً اٹھارہ دفعہ بول کی حاجت ہوئی اور تمام رات بے چینی اور بیداری میں گذری۔چار بجے کے قریب کچھ نیند آئی۔امید کہ توجہ فرما کر کوئی تجویز کر کے بھیج دیں گے کہ ضعف بہت ہوتا جاتا ہے۔شاید ضعف قلب کے خواص میں سے یہ بھی ہے کہ کثرت سے پیشاب آتا ہے اور پیشاب سے ضعف ہو جاتا ہے۔امید کہ خداوند کریم اپنے فضل سے شفا بخشے گا۔اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی سخت عارضہ ہوتا ہے تو خداوند کریم اپنی طرف سے شفا بخشتا ہے۔اسی طرح ایک دفعہ زحیر اور اسہال خونی کی سخت بیماری ہوئی۔یہاں تک کہ بظاہر زندگی سے یاس کلّی ہوگئی اور ایک شخص جو میرے ساتھ ہی بیمار ہوا تھا وہ فوت ہو گیا۔لیکن اس نازک حالت میں خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایک عجیب طور سے شفا بخشی اور یہ الہام ہوا۔وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِشِفَآئٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ۱؎ ایسا ہی اس دوسری بیماری میں بھی جب حال قریب موت ہوا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا۔الابراء۔۲؎ سو یقین رکھتا ہوں کہ خداوند کریم اس بیماری سے نجات بخشے گا۔فضل احمد نے جموں سے بڑا شکریہ کا خط لکھا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے بڑی جدوجہد اور توجہ سے میرا معالجہ کیا اور نیز درخواست کرتا ہے کہ مولوی صاحب کٹھوعہ میں میری تعیناتی کرا دیں۔اس کو لکھا گیا تھا کہ دوچار روز کے لئے مل جائے۔معلوم نہیں وہ کیوں نہیں آیا اور صاحبزادہ افتخار احمد صاحب کی والدہ نہایت الحاح سے عرض کرتی ہیں کہ افتخار احمد کی ہمشیرہ چند روز کیلئے ہم کو مل جاویں اور نیز سیالکوٹ سے مختار بھی مل جاوے اور پھر اکٹھی چلی جاویں۔پس اگر خود آنمکرم کو فرصت ہو تو