مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 131
مکتوب نمبر۸۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں آپ کو اطلاع دیتاہوں کہ سردار ویٹ خان خلف الرشید مسٹر جان ویٹ کہ ایک جوان تربیت یافتہ قوم انگریز دانشمند مدبّر آدمی انگریزی میں صاحب علم آدمی ہیں اور کرنول احاطہ مدراس میں بعہدہ منصفی مقرر ہیں۔آج بڑی خوشی اور ارادت اور صدق دل سے سلسلہ بیعت میں داخل ہوگئے۔ایک باہمت آدمی اور پرہیز گار طبع اور محب اسلام ہیں۔انگریزی میں حدیث اور قرآن شریف کو دیکھا ہوا ہے۔چونکہ رخصت کم تھی اس لئے آج واپس چلے گئے پھر ارادہ رکھتے ہیں کہ تین ماہ کی رخصت لے کر اسی جگہ رہیں اور اپنی بیوی کو ساتھ لے آویں۔وہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہر ایک ملک میں واعظ بھیجنے چاہئیںاور کہتے ہیں کہ ایک مدراس میں واعظ بھیجا جاوے اس کی تنخواہ کے لئے میں ثواب حاصل کروں گا۔غرض زندہ دل آدمی معلوم ہوتا ہے۔تمام اعتقاد سن کر اٰمَنَّا اٰمَنَّا کہا۔کوئی روک پیدا نہیں ہوئی اور کہا کہ جو لوگ مسلمان اور مولوی کہلا کر آپ کے مخالف ہیں وہ آپ کے مخالف نہیں بلکہ اسلام کے مخالف ہیں۔اسلام کی سچائی کی خوشبو اس راہ میں آتی ہے۔الغرض وہ محققانہ طبیعت رکھتے ہیں اور علوم جدیدہ میں مہارت رکھتے ہیں۔زیادہ تر خوشی یہ ہے کہ پابند نماز خوب ہے۔بڑے التزام سے نماز پڑھتا ہے۔جاتے وقت امام مسجد حافظ کو دو روپیہ دیئے اور اس عاجز کے ملازموں کو پوشیدہ طور پر چند روپیہ دینے چاہے مگر میرے اشارہ سے انہوں نے انکار کیا۔ایک مضبوط جوان دوہرا بدن کا مشابہ بدن قاضی خواجہ علی کے اور اس سے کچھ زیادہ۔خدا تعالیٰ اس کو استقامت بخشے۔کرنولؔ احاطہ مدراس میں منصف ہے۔آنمکرم بھی