مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 129
مکتوب نمبر۸۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی و مکرمی اخویم مولوی صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ مع پارسل ادویہ پہنچا۔جزاکم اللّٰہ خیرالجزاء امید کہ انشاء اللہ القدیر دوائی مجوزہ آن مکرم شروع کروں گا۔ہنوز میری حالت شدت خارش کی بدستور ہے جو زخم ہو جاتا ہے وہ مشکل سے بھرتا ہے۔درد شدید اور جریان اور سوزش اور جلن ایسی مدام حال رہتی ہے کہ مجھ سے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔اللہ جلّشانہٗ کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔میرا ارادہ تھا کہ امرتسر، کپور تھلہ، سیالکوٹ ایک مرتبہ دیکھ آؤں لیکن اس مرض کے سبب سے میری حالت سفر کے لائق ہرگز نہیں۔شیخ بٹالوی اپنے فتنہ انگیزی میں اب تک سست اور کاہل نہیں ہوئے اور اپنے تمام جذبات نفسانی اسی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان مولویوں کے ذریعہ تحریک منظور ہے اور چاہتا ہے کہ جلدی اپنے کام کو دنیا میں پھیلاوے کیونکہ بغیر اطلاع یابی کے کوئی شخص طلب کے لئے قدم نہیں اُٹھا سکتا… کا جموں تشریف لانا معلوم ہوا اگرچہ اس دارالابتلاء میں خدا تعالیٰ نے اولاد کو بھی فتنہ میں ہی داخل رکھا ہے جیسا کہ اموال کو لیکن اگر کوئی شخص صحت نیت کی بناء پر محض اس غرض سے اور سراسر اس وجہ سے فکر سے طالب اولاد ہو کہ تا اس کے بعد اس کی ذریّت میں سے کوئی خادم دین پیدا ہوجس کے وجود سے اس کے باپ کو بھی دوبارہ ثواب آخرت کا حصہ ملے تو خاص اس نیت اور اس جوش سے اولاد کا خواہشمند ہونا نہ صرف جائز بلکہ اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ میں سے ہے جیسا کہ اس خواہش کی تحریک اس آیت کریمہ میں بھی پائی جاتی ہے اللہ جلّشانہٗ فرماتا ہے ۱؎ لیکن سچ سچ اور واقعی اور حقیقی طور پر بھی جوش پیدا ہونا اور اس جذبے کی بنا پر اولاد کا خواہشمند ہونا ان ابرار و اخبار و اتقیا کا کام ہے جو اپنے اعمال خیر کے آثار باقیہ دنیا میں چھوڑ جانا چاہتی ہیں۔جہاں تک تجربہ کیا گیا ہے بیشک ایک خادم دین ہیں خدا تعالیٰ ان کو اس نیت اور اس جوش میں پورے طور پر مکمل کر کے ان کی مرادات ان کو عطا فرماوے۔اور یہ عاجز بھی بجوش دل