مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 127

سفارش کریں کہ کوئی نوکری میرے گزارہ کے موافق کرا دیں۔بیس روپے میں اپنے عیال کا گزارہ نہیں کرسکتا۔سو اگرچہ مصلحت وقت کا حال آنمکرم کو بہتر معلوم ہوگا لیکن اگر کچھ ہرج نہ ہو اور مصلحت کے برخلاف نہ ہو اور کچھ جائے اعتراض نہ ہو اور آنمکرم کچھ اس کی معاش کیلئے اس سے بہتر تجویز کر سکیں تو کر دیں۔اگرچہ ابھی تک اس کا چال چلن کا حال قابلِ اعتراض ہے مگر شاید آئندہ درست ہو جاوے۔ابرار و اخیار جو متخلق باخلاق اللہ ہوتے ہیں کبھی مطابق آیت کریمہ  ۱؎ پرعمل کر لیتے ہیں۔اس آیت کریمہ کے مفہوم پر نظر غور ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن دو لڑکوں کے لئے حضرت خضر نے تکلیف اُٹھائی۔اصل میں وہ اچھے چال چلن کے ہونے والے نہیں تھے بلکہ غالباً وہ بدچلن اور خراب حالت رکھنے والے علمِ الٰہی میں تھے۔لہٰذا خدا تعالیٰ نے بباعث اپنی ستاری کی صفت کے ان کے چال چلن کو پوشیدہ رکھ کر ان کے باپ کی صلاحیت ظاہر کر دی اور ان کی حالت کو جو اصل میں اچھی نہیں تھی کھول کر نہ سنایا۔اور ایک خویش کی وجہ سے دو بیگانوں پر رحم کر دیا۔امید کہ اپنی روانگی سے پہلے اس عاجز کو ضرور مطلع فرماویں گے۔اس قدر میں نے لکھا تھا کہ پھر نہایت عاجزی سے فضل احمد کا خط آیا ہے کہ خدمت میں مولوی صاحب کے میری نسبت ضرور لکھیں۔آنمکرم اس کو بلا کر اطلاع دے دیں کہ تیری نسبت وہاں سے سفارش لکھی ہے۔اگر مناسب سمجھیں تو کسی کو اس کی نسبت سفارش کر دیں کہ وہ سخت حیران ہے۔اس کی ایک بیوی تو میرے پاس اس جگہ ہے اور ایک قادیان میں ہے۔٭ خاکسار غلا م احمد عفی عنہ لودہیانہ محلہ اقبال گنج نوٹ: اس خط پر تاریخ نہیں مگر لدہیانہ کے پتہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۹۱ء کا ہے۔(عرفانی)