مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 122
مکتوب نمبر۸۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْم مخدومی مکرمی اخویم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلَّمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَ نَظَرَ اللّٰہُ بِنَظَرِ الرَّحْمَۃِ وَالرِّضْوَانِ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ مشتمل بر تلطّفات محبت نامہ پہنچ کر باعث انشراح و سرور و ممنونی ہوا۔آپ کی ملاقات کو دل بہت چاہتا ہے۔خدا تعالیٰ آپ کو خیر و خوشی کے ساتھ جلد ملاوے۔تعلقات دنیا میں حاسدوں کا ہونا ایک طبعی امر ہے۔وَلِکُلِّ مُقَبّلٍ حَاسِدٌ۔حفاظت و حمایت الٰہی آپ کے لازم حال رہے۔بیشک ایسے تعلقات بہت خطرناک ہیں اور ان میں بجز خاص رحمت الٰہی کے انجامِ خیر کے ساتھ عہدہ برا ہونا بہت مشکل ہے۔ہمیشہ تضرع اور استغفار حضرت ربّ کریم کی جناب میں لازمِ حال ہی رکھیں۔رفق اور نرمی اور اخلاق میں تو پہلے ہی سے آنمکرم سبقت لے گئے ہیں۔لیکن امید رکھتا ہوں کہ حاسدوں اور دشمنوں سے بھی یہی طریق جاری رہے اور حتی الوسع ریاست کے کاموں میں بہت دخل دینے سے پرہیز رہے کہ سلامت برکنار است کا مقولہ قابل توجہ ہے۔ازالہ اوہام اب تک چھپ کر نہیں آیا۔شاید دس پندرہ روز تک آ جاوے گا۔اس کے نکلنے کے بعد آں مکرم کو تکلیف دوں گا کہ اس کا لب لباب نکال کر تشریحات اور ایزادات مناسبہ کے ساتھ آں مکرم کی طرف سے بھی کوئی رسالہ شائع ہو جاوے۔مولوی محمد حسین صاحب سے جس قدر بحث ہوئی اس عاجز کی دانست میں وہ مصلحت سے خالی نہیں تھی اور امید رکھتا ہوں کہ فریقین کے بیانات شائع ہونے کے بعد انشاء اللہ اس کا بہت نیک اثر دلوں پر پڑے گا۔یہ بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ سید محمد عسکری خان صاحب کی نسبت ابھی کچھ تذکرہ ہوا یا نہیں اور سب خیریت ہے۔٭ والسلام ۱۶؍ اگست ۱۸۹۱ء خاکسار۔غلام احمد از لدہیانہ اقبال گنج