مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 116

مکتوب نمبر۷۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔محبت نامہ جو آں مخدوم کے مرتبہ یقین اور اخلاص اور شجاعت اور لِلّٰہی زندگی پر ایک محکم دلیل اور حجت قویّہ تھا پہنچ کر باعث انشراح خاطر و سرور و ذوق ہوا۔بلاشبہ اس درجہ کی قوت و استقامت و جوش و ایثار جان و مال للہ اس چشمہ صافیہ کمال ایمانی سے نکلتا ہے جس میں چمکتا ہوا یقین اس امر کا پورے زور کے ساتھ موجود ہوتا ہے کہ خدا ہے اور وہ صادقوں کے ساتھ ہے۔اس عاجز نے ارادہ کیا تھا کہ بلاتوقف جناب الٰہی میں اس بارہ میں توجہ کروں۔لیکن دورہ مرض اور ضعف دماغ اور ایک امر پیش آمدہ کی وجہ سے اس میں تاخیر ہے۔اور امید رکھتا ہوں کہ جس وقت خدا تعالیٰ چاہے مجھے اس توجہ کے لئے توفیق بخشی جائے گی۔اوّل حضرت احدیت جلّشانہٗ سے اجازت لینے کے لئے توجہ کی جائے گی۔پھر بعد اس کے بعد تعیین شرائط فریقین امر خارقِ عادت کے لئے توجہ ہوگی۔یہ بات مسلم اور واضح رہے کہ راستباز انسان کیلئے ایسے امور کی غرض سے کسی قدر مجاہدہ ضروری ہے۔الکرامات ثمرۃ المجاہدات، علالت طبع بہت حرج انداز ہے۔اگریہ مقابلہ صحت اور طاقت دماغی کے ایام میں ہوتا تو یقین تھا کہ تھوڑے دن کافی ہوتے۔مگر اب طبیعت تحمل شدائد مجاہدات نہیں رکھتی اور ادنیٰ درجہ کی محنت اور خوض اور توجہ سے جلد بگڑ جاتی ہے۔اگر ڈاکٹر صاحب کو طلب حق ہوگی تو وہ تین باتیں بآسانی قبول کریں گے۔(۱) اوّل یہ کہ میعاد توجہ یعنی وہ میعاد جس کے اندر کوئی امر خارقِ عادت ظاہر ہونے والا پیش از وقوع بتلایا جاوے۔اس کے موافق ہو۔جو خدا تعالیٰ ظاہر کرے۔(۲) دوم جو امر ظاہر کیا جائے یعنی منجانب اللہ بتلایا جاوے اس کی اس میعاد کی انتظار کریں جو منجانب اللہ مقرر ہو۔ہاں میعاد ایسی چاہئے جو معاشرت کے عام معاملات میں قبول کے لائق سمجھی گئی ہو اور عام طور پر لوگ اپنے کاموں میں ایسی میعادوں کے انتظار کے عادی ہوں اور اپنے مالی معاملات کو ان میعادوں پر چھوڑتے ہوں یا اپنے دوسرے کاروبار ان میعادوں کے