مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 105
مکتوب نمبر۶۹ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل آپ کی خدمت میں مولوی عبدالجبار صاحب اور میاں عبدالحق صاحب کے خط روانہ کر چکا ہوں اور مجھے اس بات سے بہت خوشی ہے جس کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا کہ مولیٰ کریم اور میرا آقا و محسن عز ّاسمہ جلّشانہٗ مجھے فتح و نصرت کی بشارت دیتا ہے اور ان لوگوں کے فیصلہ کیلئے مجھے ایک راہ بتاتا ہے جنہوں نے الہامات کا ادّعا کر کے ا س عاجز کو ملحد اور جہنمی قرار دیا ہے اور جرأت کر کے اس مضمون کو شائع بھی کر دیا۔اور جو ان باتوں سے اپنے بھائی مسلمان کو آزار پہنچاتا ہے ا وراس کی تذلیل ہوتی ہے اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی اور طریق تقویٰ کی رعایت نہیں رکھی۔اس لئے یہ امر خدا تعالیٰ کی جناب میں کچھ سہل و آسان نہیں بلکہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا تھا۔سو مجھے خدا تعالیٰ کی نصرت کی خوشبو آرہی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ مجھے ایک ایسی راہ کی رہبری کرتا ہے جس سے جھوٹوں کا جھوٹ کھل جائے۔اگر یہ الزام صرف میری ذات تک محدود ہوتا تو دوسرا امر تھا لیکن اس کا بداثر ہزاروں لوگوں پر ہوتا ہے۔جہنمی اور کے لفظ میں سب قسم کے عیب بھرے ہوئے ہیں۔سو میں انشاء اللہ القدیر ان امور کے پورے طور پر کھلنے کے بعد جن کی مجھے بشارت دی گئی ہے اور پھر ان کے چھپوانے کے بعد ان لوگوں سے رجسٹر شدہ خطوط کے ذریعہ سے درخواست کروں گا اور انشاء اللہ القدیر وہ ایسا امر ہو گا جو کاذب کی پردہ دری کردے گا۔۔۱؎ ٭ والسلام خاکسار ۱۶؍ فروری ۱۸۹۱ء مرزا غلام احمد