مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 105

مکتوبات احمد ۱۰۵ جلد دوم مکتوب نمبر اے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل آپ کی خدمت میں مولوی عبد الجبار صاحب اور میاں عبدالحق صاحب کے خط روانہ کر چکا ہوں اور مجھے اس بات سے بہت خوشی ہے جس کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا کہ مولیٰ کریم اور میرا آقا محسن عزاسمہ جلشانہ مجھے فتح و نصرت کی بشارت دیتا ہے اور ان لوگوں کے فیصلہ کیلئے مجھے ایک راہ بتاتا ہے جنہوں نے الہامات کا ادعا کر کے اس عاجز کو ضال ملحد اور جہنمی قرار دیا ہے اور جرات کر کے اس مضمون کو شائع بھی کر دیا۔ اور جو ان باتوں سے اپنے بھائی مسلمان کو آزار پہنچاتا ہے اور اس کی جوان تذلیل ہوتی ہے اس کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی اور طریق تقویٰ کی رعایت نہیں رکھی ۔ اس لئے یہ امر خدا تعالیٰ کی جناب میں کچھ سہل و آسان نہیں بلکہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا تھا ۔ سو مجھے خدا تعالیٰ کی نصرت کی خوشبو آ رہی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ مجھے ایک ایسی راہ کی رہبری کرتا ہے جس سے جھوٹوں کا جھوٹ کھل جائے ۔ اگر یہ الزام صرف میری ذات تک محدود ہوتا تو دوسرا امر تھا لیکن اس کا بداثر ہزاروں لوگوں پر ہوتا ہے۔ جہنمی اور ضال کے لفظ میں سب قسم کے عیب بھرے ہوئے ہیں۔ سو میں انشاء اللہ القدیران امور کے پورے طور پر کھلنے کے بعد جن کی مجھے بشارت دی گئی ہے اور پھر ان کے چھپوانے کے بعد ان لوگوں سے رجسٹر شدہ خطوط کے ذریعہ سے درخواست کروں گا اور انشاء اللہ القدیر وہ ایسا امر ہو گا جو کا ذب کی پردہ دری کر دے گا۔ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ * والسلام خاکسار مرز ا غلام احمد ۱۶ فروری ۱۸۹۱ء لا ال عمران: ۳۰ یہ مکتوبات جلد ششم سے لے کر شامل کیا گیا ہے ۔