مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 99

نہیں۔یہ بننا چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے عاجز اور مطیع بندوں میں داخل کر لیوے لیکن ہم ابتلا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ نے ترقیات کا ذریعہ صرف ابتلاء ہی رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ۱؎ معلوم نہیں کہ آنمکرم نے ابھی تک وہ خطوط جن کا وعدہ آپ نے فرمایا تھا، روانہ کئے ہیں یا نہیں۔رسالہ ازالہ اوہام میں یہ بحث اس قدر مبسوط ہے کہ شاید دوسرے کسی رسالہ میں نہ ہو۔اگر آپ کی طرف سے کوئی خاص تحریر آپ کی اس وقت پہنچی تو میں مناسب سمجھتا ہوں۔اس کو رسالہ ازالہ اوہام میں چھاپ دوں۔مضمون اگر اُردو عبارت میں ہو تو بہتر ہے تا عام لوگ اس کو پڑھ لیں۔آئندہ جیسا کہ آپ مناسب سمجھیں وہی بہتر ہے۔والسلام ۲۴؍ جنوری ۱۸۹۱ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ نوٹ: اس مکتوب میں حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کے متعلق جس امر پر روشنی پڑتی ہے وہ عجیب ہے۔آپ کو حضرت حکیم الامت نے دمشقی حدیث الگ رکھ کر مثیلِ مسیح کے دعویٰ کے متعلق لکھا ہے مگر حضرت نے صاف فرمایا کہ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ بن جاؤں۔اس حصہ کو پڑھو تو کھل جاتا ہے کہ آپ بالطبع پبلک میں آنے سے کَارِہ ہیں اور آپ صرف خدا تعالیٰ کے عشق و محبت میں سرشار ہیں۔مگر خدا تعالیٰ آپ کو باہر نکال رہا ہے اور مامور کر کے دعوت پر مجبور کرتا ہے۔حضرت اس کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب گویا ابتلا سے ڈرتے ہیں گو صاف الفاظ میں اس کا اظہار نہیں مگر حضرت حجۃ اللہ ذرا بھی پرواہ نہیں کرتے۔(عرفانی)