مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 76

مکتوبات احمد ۷۶ جلد اول مکتوب نمبر ۱۷ پنڈت لیکھرام نے لکھا ہے کہ میرے آخری خط کا جواب عرصہ تین ماہ تک نہ آیا تو پھر میں نے ایک پوسٹ کارڈ بطور یاد دہانی کے ارسال کیا۔ اس کے جواب میں مرزا جی کا کارڈ آیا کہ قادیان کوئی دور تو نہیں ہے ۔ آن کر کے ملاقات کر جاؤ۔ امید کہ یہاں پر باہمی ملنے سے 66 شرائط طے ہو جائیں گی ۔ ( کلا (کلیات صفحہ ۴۱۳ ) مکتوب نمبر ۱۸ لیکھرام کا خط مرزا صاحب ۔ کندن کوہ (اس کے آگے ایک شکستہ لفظ ہے جو پڑھا نہیں جاتا ہے ) افسوس کہ آپ نے قرآنی اسپ خود کو اسپ اور اوروں کے اسپ کو خچر قرار دیتے ہیں۔ میں نے ویدک اعتراض کا عقل سے جواب دیا اور آپ نے قرآنی اعتراض کا نقل سے ۔ مگر وہ عقل سے بسا بعد ہے۔ اگر آپ فارغ نہیں تو مجھے بھی تو کام بہت ہے اچھا آسمانی نشان تو دکھا دیں ۔ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان تو مانگیں تا فیصلہ ہو ۔ (لیکھرام ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے جواب جناب پنڈت صاحب ! آپ کا خط میں نے پڑھا۔ آپ یقیناً ھا ۔ آپ یقیناً سمجھیں کہ ہم کو نہ بحث سے انکار ہے اور نہ نشان دکھلانے سے ۔ مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے بیجا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں ۔ آپ کی زبان بد زبانی سے رکتی نہیں ۔ آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش لکھتے تو خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں ۔ یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلمے ہیں گویا آپ اُس خدا پر ایمان نہیں لاتے جو بے باکوں کو تنبیہہ کر سکتا ہے۔ باقی رہا یہ اشارہ کہ خدا عرش پر ہے اور لد روزنامه الفضل قادیان دارالامان مؤرخه ۲ فروری ۱۹۴۳ء صفحه ۳