مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 75
مکتوبات احمد ۷۵ جلد اول مکتوب نمبر ۱۶ بنام پنڈت لیکھر ام آر یہ مسافر اصل خط نہیں ملا۔ صرف اس خط کے اقتباس لیکھرام کی تکذیب سے لئے ہیں ۔ اس لئے ان کو ہی مفصل درج کر دیا جاتا ہے ۔ بہر حال اس اقتباس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا لکھا ہوگا ۔ (ایڈیٹر ) - پہلے اشتہار میں چوبیس سو ( ۲۴۰۰) دینے کا وعدہ ضرور ہوا ہے مگر پیشگی جمع کر دینے کی شرط نہیں کی تھی ۔ چونکہ آپ نے میرے وعدہ کو معتبر نہ سمجھا اور یہ زائد شرط لگائی کہ زر معہودہ کسی بنک سرکاری میں جمع کر دیا جائے ۔ اس صورت میں میرے لئے برخلاف اس اشتہار کے استحقاق پیدا ہو گیا کہ چوبیس سو روپیہ بالمقابل پیشگی امانت رکھاؤں ۔ ۔ اخیر پر آپ اس قسم کے نشانوں کو قبول کرتے ہیں کہ ستاروں ، آفتاب و ماہتاب کے تغیر و تبدل وغیرہ پر مشتمل ہوں ۔ پنڈت صاحب ! ہمارا یہ کام ہرگز نہیں کہ ہم جس طور سے کوئی شخص زمین و آسمان میں انقلاب پیدا کرنا چاہے اس طور سے انقلاب کر کے دکھا دیں ۔ ہم صرف بندہ مامور ہیں۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی طور پر کا نشان ظاہر کرے گا ۔ ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ نشان اس شے کا نام ہے کہ انسانی طاقت سے بالا تر ہو ۔ ہمارا دعوئی صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ صرف ایسا نشان دکھائے گا جس کے مقابلہ سے انسانی طاقتیں عاجز ہوں ۔ لفظ نشان کو اپنی اصطلاح میں معجزہ قرار دے کر یہ تعریف لکھتے ہو کہ اس کے مقابلہ سے انسانی طاقتیں عاجز ہوں تو واقعی یہ معنی معجزہ کے درست ہیں کہ مشاہدین فورا عاجز ہو کر مشاہدہ کرانے والے پر ایمان لاویں اور دور تک موثر ہووے۔ غرضیکہ اظہر من الشمس ہونا چاہئے ۔ ۳۱ جولائی ۱۸۸۵ء خاکسار مرزا غلام احمد روزنامه الفضل قادیان دارالامان مؤرخه ۲ فروری ۱۹۴۳ء صفحه ۳ از قادیان