مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page ix
۹ حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں ۔ ۲۱ فروری ۱۹۳۴ء کے الحکم میں عرفانی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے محکمہ ڈاک کا ذکر کیا ہے چونکہ عاجز راقم بھی اس خدمت پر ایک عرصہ تک مامور رہا اس واسطے ڈاک کے متعلق میں بھی چند باتیں عرض کرنے کا ثواب حاصل کرنے کا آرزومند ہوں ۔ ڈاک خانہ سے پوسٹ مین ڈاک براہِ راست حضرت صاحب کے پاس لے جایا کرتا تھا۔ حضور کا کوئی خادم یا خادمہ پوسٹمین کے آواز دینے سے دروازہ پر آ کر ڈاک اندر لے جاتا تھا۔ بعض دفعہ حضور خود ہی تشریف لے آتے اور پوسٹمین سے ڈاک لے جاتے ۔ تمام خطوط کھولتے ، پڑھتے بعض پر کچھ نوٹ کر دیتے کہ کیا جواب لکھا جائے ۔ بعض بغیر نوٹ کے میرے پاس بھیج دیتے اور بعض اپنے پاس رکھ لیتے اور خود دست مبارک سے اُن کے جوابات لکھتے ۔ ایسے خطوط عموماً سیٹھ عبدالرحمن صاحب مرحوم مدراسی کے ہوتے یا حضرت مولوی عبداللہ صاحب مرحوم سنوری کا خط یا بعض احمد یان کپورتھلہ کے خطوط جو پُرانے مخلصین میں سے تھے۔ ایسے خط بھی عموماً لفافہ میں بند کر کے پتہ لکھنے کے واسطے مجھے بھیج دیا کرتے تھے ۔ جب پہلے پہل ڈاک میرے سپرد ہوئی تو وہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور کے ایک دفعہ سیالکوٹ تشریف لے جانے کے وقت تھی۔ جب میں نے خطوط کو دیکھا تو اکثر خطوط درخواست دعا کے لئے تھے اور میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا کیا جواب دوں ۔ اس واسطے میں نے اُن سب کی ایک فہرست بنائی اور ایک نقشہ بنا کر اس میں ہر شخص کا نام اور مقام اور مطلب درخواست دعا درج کیا اور فہرست اندر بھیج دی ۔ مگر حضور نے وہ فہرست واپس کی اور نہ اس کے متعلق کچھ فرمایا۔ دوسرے دن میں نے پھر ویسی ہی ایک فہرست بنائی اور اندر بھیج دی۔ وہ فہرست بھی اندر ہی رہی اور کچھ جواب نہ آیا۔ تیسرے دن میں نے پھر بعد نماز زبانی عرض کیا ۔ تب حضور نے فرمایا۔ ایسے اصحاب کو لکھ دیا کریں کہ دعا کی گئی کیونکہ میں خط اپنے ہاتھ سے نہیں رکھتا کہ جب تک کہ دعا نہ کرلوں اور اب آپ فہرست بنا کر بھیجتے ہیں تو فہرست آگے رکھ کر پھر