مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 70

گروہ اس کا اتباع کر کے راہ راست پر آئے، حق کی ہدایت یابی کو کسی غرض نفسانی پر مبنی سمجھ لیتے ہیں۔ماسوا اُس کے ان خطوط مطبوعہ کے بھیجنے سے میری غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک قوم پرحجت پوری ہوکر حصہ پنجم میں اس اتمامِ حجت کا حال درج کیا جاوے لیکن ایک عامی آدمی کے قائل اور مسلمان ہو جانے سے قوم پر کیونکر حجت پوری ہو جائے گی۔عامی کا عدم و وجود قوم کے نزدیک برابر ہے۔کیا اس جگہ کے بعض آریہ سماج کے ممبروں کی شہادت سے جنہوں نے بچشم خود بعض نشانوں کو دیکھا ہے، آپ لوگ مسلمان ہو سکتے ہیں؟ تو پھر کیونکر امید رکھیں کہ آپ کی شہادت قوم پر مؤثر ہوگی۔حالانکہ آپ قادیان کے بعض آریوں سے جنہوں نے بعض نشانوں کو مشاہدہ کیا ہے حیثیت اور عزت اور لیاقت میں زیادہ نہیں ہیں۔بہرحال ہم کو اس خط مطبوعہ پر عمل کرنا لازم ہے جس کو آپ بنظر سرسری دیکھ چکے ہیں۔اگر قوم کے مقتدا مخاطب ہونے کے لئے مخصوص نہ ہوں تو یہ سلسلہ قیامت تک ختم نہ ہوگا۔مناسب ہے کہ آپ بہت جلد اس کا جواب لکھیں کیونکہ اگر آپ مقتداء قوم کے قرار پا گئے تو دوسرے مراتب اس کے بعد طے ہونگے اور جو مبلغ دو سَو روپیہ ماہواری کے حساب سے دو ہزار چار سَو روپیہ سال بصورت مغلوبیت دینا تجویز کیا ہے، یہ بھی اسی لحاظ سے یعنی مقتدائے قوم کی وجہ سے قرار پایا ہے۔پھر خواہ وہ مقتدا تمام روپیہ آپ رکھے یا قوم جو اقرار نامہ پر دستخط کرے گی اپنے اپنے حصہ ٹھہرا لیں۔اب خلاصۂ کلام آپ یہ یاد رکھیں کہ ہم نے تین ماہ تک حصہ پنجم کا چھپنا ملتوی کر کے ہر ایک قوم کے سرگروہ کو خطوط مطبوعہ بصیغہ رجسٹری بھیجے ہیں۔کیونکہ قوم کے سرگروہ کُل قوم کا حکم رکھتے ہیں۔عوامُ النَّاس سے ہم کو کچھ سروکار نہیں اور نہ اس طور سے بحث کا سلسلہ کبھی ختم ہو سکتا ہے۔جو شخص ہمارے مقابل پر آناچاہے ( آپ ہوں یا کوئی اور ) اوّل اُس کو یہ ثبوت دینا چاہئے کہ درحقیقت وہ مقتدائے قوم ہے اور اس کی قوم کے لوگ اس بات پر مستعد ہیں کہ اس کے قائل اور اقراری ہو جانے سے بِلا حجت و حیلہ دین اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔سو مناسب ہے کہ آپ سعی و کوشش کرکے پانچوں آریہ سماج کے جس قدر ممبر ہوں اُن سے حلفاً اقرار نامہ لے لیں اور نام بنام اُن سے دستخط کرائیں اور اس اقرار نامہ پر دس یا بیس متفقہ مسلمانوں اور بعض پادریوں کے دستخط بھی ہوں تاکہ وہ اقرار نامہ معہ آپ کے اقرار نامہ اور ہمارے اقرار کے چند اخباروں میں چھپوایا جاوے۔لیکن جب تک آپ اس طور سے اپنا سرگروہ ہونا ثابت نہ کریں تب تک آپ عوامُ النَّاس میں سے محسوب ہونگے