مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 69
مکتوب نمبر۱۴ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم از عائذ باللہ الصمد غلام احمد بطرف پنڈت لیکھرام صاحب۔بعد ماوجب۔آپ کا خط ملا۔آپ لکھتے ہیں کہ خط مطبوعہ مطبع مرتضائی لاہور مطالعہ سے گزرا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ابھی تک یہ خط آپ نے مطالعہ نہیں کیا کیونکہ تحریر آپ کی شرائط مندرجہ خط مذکورہ بالا سے بکلّی برعکس ہے۔اوّل اس عاجز نے اپنے خط مطبوعہ کے مخاطب وہ لوگ ٹھہرائے ہیں کہ جو اپنی قوم میں معزز علماء اور مشہور اور مقتداء ہیں جن کاہدایت پاناایک گروہ کثیر پر مؤثر ہو سکتا ہے۔مگر آپ اس حیثیت اور مرتبہ کے آدمی نہیں ہیں۔اور اگر میں نے اس رائے پر غلطی کی ہے اور آپ فی الحقیقت مقتداء و پیشوائے قوم ہیں تو بہت خوب، میں زیادہ تر آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔صرف اتنا کریں کہ پانچ آریہ سماج میں (۱)آریہ سماج قادیان (۲) آریہ سماج لاہور (۳) آریہ سماج پشاور (۴) آریہ سماج امرتسر (۵)آریہ سماج لدھیانہ میں جس قدر ممبر ہیں سب کی طرف سے ایک اقرار نامہ حلفاً اس مضمون کا پیش کریں کہ جو پنڈت لیکھرام صاحب ہم سب لوگوں کے مقتداء اور پیشوا ہیں۔اگر اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاویں گے اور کوئی نشانِ آسمانی دیکھ لیں گے تو ہم سب لوگ بلاتوقف شرفِ اسلام سے مشرف ہو جائیں گے۔پس اگر آپ مقتدائے قوم ہیں تو ایسا اقرار نامہ پیش کرنا آپ پر کچھ مشکل نہ ہوگا بلکہ تمام لوگ آپ کا نام سنتے ہی اقرار نامہ پر دستخط کر دیں گے کیونکہ آپ پیشوائے قوم جو ہوئے۔لیکن اگر آپ اپنا مقتدائے قوم ہونا ثابت نہ کر سکیں اور ایسا اقرار نامہ مرتب کر کے دو ہفتہ تک میرے پاس نہ بھیج دیںتو آپ ایک شخص عوامُ النَّاس سے سمجھے جائیں گے جو قابلِ خطاب نہیں۔یہ بات آپ پر واضح رہے کہ اس معاملہ میں خط مطبوعہ میں شرط یہی درج ہے کہ مقتدائے قوم ہو (دیکھو سطر دہم خط مطبوعہ) اب مقتداء ہونا بجز مقتدیوں کے اقرار کے کیونکر ثابت ہو۔اور یہ بات کہ ہم نے اپنے خط میں یہ شرائط لازمی کیوں رکھی کہ شخص ممتحن مقتدائے قوم ہو، عوامُ النَّاس سے نہ ہو، اس شرط کی وجہ یہ ہے کہ عوامُ النَّاس میں سے کسی کو مغلوب اور قائل کرنا دوسروں پر مؤثر نہیں ہو سکتا بلکہ ایسے شخص کے تجربہ کے خواص لوگ سادہ لوحی اور عدم بصیرتی پر حمل کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ کوئی