مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 66
مکتوب نمبر۱۳ بسم اللّہ الرحمٰن الرحیم مشفق پنڈت لیکھرام صاحب۔بعد ماوجب۔آپ کا خط مرقومہ ۹؍ اپریل ۱۸۸۵ء مجھ کو ملا آپ نے بجائے اس کے کہ میرے جواب پر انصاف اور صدق دلی سے غور کرتے ایسے الفاظ دُور از تہذیب و ادب اپنے خط میں لکھے ہیں جو میں خیال نہیں کر سکتا کہ کوئی مہذب آدمی کسی سے خط و کتابت کر کے ایسے الفاظ لکھنا روا رکھے۔پھر آپ نے اپنے اسی خط میں ہنسی اور تمسخرکی راہ سے دین اسلام کی نسبت توہین اور ہتک کے کلمات تحریر کئے ہیں اور بغیر سوچنے سمجھنے کے ہجو ملیح کی طرح مکروہ اور نفرتی باتوں کو پیش کیا ہے۔اگرچہ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ کس قدر طالبِ حق ہیں لیکن پھر بھی میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کی سخت اور بدبودار باتوں پر صبر کرکے دوبارہ آپ کو اپنے منشاء سے مطلع کروں۔کیونکہ یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ شاید آپ نے میرے پہلے خط کو غور سے نہیں پڑھا اور اشتعال طبع مانع تفکر و تدبّر ہو گیا۔سو اب میں پھر اپنے اُسی جواب کو دوہرا کر تحریر کرتا ہوں۔صاحب من! میں نے جو پہلے خط میں لکھا تھا اس کا خلاصہ مطلب یہی ہے جو اَب میں گزارش کرتا ہوں۔یعنی ان دنوں میں اتمامِ حجت کی غرض سے میںنے یہ مناسب سمجھا کہ سات سَو خط چھپوا کر اُن مخالفین مذہب کی طرف روانہ کروں جو اپنی اپنی قوم کے سرگروہ اور میر مجلس ہیں اور یہ قرار پایا کہ چونکہ ہر ایک قوم میں اوسط اور ادنیٰ درجہ کے آدمی ہزار ہا بلکہ لکھوکھہا ہوا کرتے ہیں اس لئے یہی مناسب ہے کہ یہ خطوط مطبوعہ ان چیدہ چیدہ اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کی طرف روانہ کئے جائیں کہ جو خواص اور قلیل الوجود آدمی ہیں۔پھر ساتھ ہی یہ بھی سوچا گیا کہ ایسے لوگ اگر قادیان میں ایک برس تک ٹھہرنے کے لئے بلائے جائیں تو ان کی دنیوی عزت اور آمدنی کے لحاظ سے دو سَو روپیہ ماہواری ان کے لئے شرط مقرر کرنا مناسب ہوگا۔کیونکہ یہ خیال کیا گیا کہ وہ لوگ جس قدر اپنے اپنے مکانات میں بذریعہ نوکری یا تجارت وغیرہ وجوہ معاش حاصل کرتے ہیں۔وہ غالباً اسی اندازہ کے قریب قریب ہوگا۔غرض جو دو سَو روپیہ کی رقم مقرر کی گئی وہ محض بنظر اندازہ وجوہِ معاش اُن اعلیٰ درجہ کے سرگروہوں کے مقرر ہوئی تا وہ لوگ یہ عذر پیش نہ کریں کہ قادیان میں ٹھہرنے سے ہمارا